روشنی کا سفر — Page 96
فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگائی گئی تھی۔آپ نے اپنے نہایت مخلص رفیق شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا کہ اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں وہ ہمیں صرف اتنی دور لے جائے کہ ہم اس وقت کے اندر اندر ہوا خوری کر کے گھر واپس پہنچ جائیں۔چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔اس وقت آپ کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قد رضعف تھا اور غالباً آنے والے حادثہ کے مخفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ربودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔حضرت اقدس سیر سے واپس بخیریت سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان تک پہنچے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں۔پھر تھوڑا سا کھانا تناول فرمایا اور آرام کے لئے لیٹ گئے۔(25 مئی کی شام کو ) حضور نے کھانے کے چند نوالے ہی کھائے تھے کہ اسہال کی حاجت ہوئی۔اس کے بعد تھوڑی دیر تک حضور کو دبایا جاتا رہا اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور حضرت اماں جان بھی سوگئیں۔لیکن تھوڑی دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی۔کوئی گیارہ بارہ بجے کے قریب طبیعت بے حد کمزور ہوگئی۔حضور نے حضرت اماں جان کو جگایا آپ اٹھیں اور حضور کے پاؤں مبارک دبانا شروع کیا۔کچھ وقت کے بعد حضور کی حالت ضعف سے بہت نازک ہو گئی جس پر حضرت اماں جان نے پوچھا کہ مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب) کو بلالیں؟ حضور نے فرمایا۔بلا لو۔نیز فرمایا۔محمود کو جگالو۔حضرت کے علاج کے لئے کوشش کی گئی لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر کچھ اور رنگ دکھا رہی تھی۔بالآخر 26 مئی 1908ء کو حضور دن کے ساڑھے دس بجے اس جہان فانی کو الوداع کہہ کر اپنے مالک حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔بھی اک سرا ہے شکوه روز برس رہا گا جو ملا ہے کو پھر جدا جدا ہے سبحان دوستو ! پیار بسارو کچھ زاد راه لے لو جائے فانی دل مبارک سبحان گزارو اتارو میرانی (درشین)