روشنی کا سفر — Page 95
پیغام صلح روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 459) مولا میرے پیارے مولا ۹۳۔حضرت مسیح موعود کی وفات (190826) فرائض ماموریت کی تکمیل کے بعد وہ وقت آ گیا کہ یہ برگزیدہ اور خدا نما وجود اس دنیا کو خیر باد کہہ دے۔جیسا کہ ہم نے بتایا ہے سفر لا ہور سے پیشتر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام اطلاع ہو چکی تھی کہ یہ سفر سفر آخرت کا پیش خیمہ ثابت ہونے والا ہے۔لاہور میں 9 مئی 1908ء کو الرحيل ثم الرحيل الہام ہوا تو حضور علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی اہلیہ محترمہ کو بلایا کہ جس جگہ ہم مقیم ہیں اس میں آپ آجا ئیں اور ہم آپ والے حصہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ خدا نے الہام میں الرجیل فرمایا ہے جسے ظاہر میں بھی نقل مکانی سے پورا کر دینا چاہئے اور معذرت بھی فرمائی کہ اس نقل مکانی سے آپ کو تکلیف تو ہوگی مگر میں اس خدائی الہام کو ظاہر میں پورا کرنا چاہتا ہوں چنانچہ خواجہ صاحب والا مکان بدل کر حضور سید محمد حسین شاہ صاحب والے مکان میں تشریف لے گئے۔ایک ہفتہ بعد 17 مئی 1908ء کو مکن تکیه برعمر نا پائدار کا الہام ہوا جس میں صاف طور پر وفات کی خبر تھی۔اس کے بعد 20 مئی کو جبکہ حضرت اقدس ”پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے آخری الہام ہوا۔الرحيل ثم الرحيل والموت قريب یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا لیکن سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دانستہ اس کی تشریح نہیں فرمائی تاہم ہر سمجھدار شخص سمجھتا تھا کہ اب وقت مقدر سر پر آ گیا ہے۔اس پر ایک دن حضرت اماں جان نے گھبرا کے حضرت مسیح موعودؓ سے کہا کہ اب قادیان واپس چلیں۔حضور نے فرمایا اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدا لے جائیگا۔اور آپ بدستور پیغام صلح کا مضمون لکھنے میں مصروف رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سرعت اور توجہ کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا۔بالآخر 25 مئی کی شام کو آپ نے اس مضمون کو قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپر د کر دیا۔حضور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر حسب طریق سیر کے خیال سے باہر تشریف لائے۔ایک کرامیہ کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو