روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 8 of 104

روشنی کا سفر — Page 8

بحثیں کر لیا کرتے تھے۔ایک ہندو افسر پنڈت سج رام اپنی بد بختی کی وجہ سے اکثر آنحضرت اور دین حق کے خلاف زبانِ طعن دراز کیا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود اس کی بدزبانی سن کر ایک دلیر مجاہد کی طرح ڈٹ کر اسے جواب دیتے اور زبر دست دلائل کے ذریعے سے اسے عاجز کر دیتے۔یہ حالت دیکھ کر وہ آپ پر غیر ضروری سختی کرتا اور تنگ کرنے کی کوشش کرتا لیکن آپ ہر مصیبت سے بے نیاز دین کے دفاع میں ہمیشہ مستعد رہتے اور افسر کی مخالفت کی کچھ بھی پرواہ نہ کرتے۔دفتری فرائض کی انجام دہی کے بعد آپ کا اکثر وقت تلاوت قرآن مجید عبادات شب بیداری، خدمت خلق اور تبلیغ میں گزرتا تھا۔ظہور حسد سنو عون دشمنوں کی د میدم ہے پشت ہے وقت توحید اتم ہے مائل ملک عدم ہے (در شین) شمس العلماء مولانا سید میرحسن صاحب بیان کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب 1864ء میں بتقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول ولغو سے مجتنب اور محترز تھے۔۔۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر کھڑے ہو کر ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔66 (بحوالہ حیات طیبہ صفحہ 22 تا 25) ۳۔والدہ کی وفات اور آپ کا صبر سیالکوٹ کی ملازمت میں آپ نے چار سال کا وقت گزارا۔یہ جدائی آپ کے والدین پر بھی گراں تھی اس لئے 1868ء میں آپ کی والدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کی تشویشناک علالت کی وجہ سے آپ کے والد نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس قادیان آنے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مسیح موعود نے والد کے اس حکم پر لبیک کہا اور فوراً استعفیٰ دے کر قادیان کی طرف روانہ