روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 69 of 104

روشنی کا سفر — Page 69

قاضی شہر نے گھوڑے سے اتر کر آپ پر پہلا پتھر چلایا۔جس کے بعد بد قسمت امیر نے آپ کو پتھر مارا پھر کیا تھا عوام الناس کی طرف سے آپ پر پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔اور آپ شہید ہو گئے۔یہ واقعہ 14 جولائی 1903ء کو وقوع پذیر ہوا۔حضرت مسیح موعود نے اپنی تصنیف ”تذکرۃ الشہادتین میں اس واقعہ کا تفصیلی ذکر فرمایا جس میں آپ نے یہ بھی لکھا۔یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانے میں نظیر نہیں ملے گی۔ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا۔کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کابل کے زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بدقسمت زمین! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔“ آج دنیا میں کون ایسا شخص ہے جو افغانستان اور کابل کے دردناک واقعات اور حالات سے آگاہ نہ ہو۔باوجود اس کے کہ صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے واقعہ کو سو سال پورے ہونے کو ہیں پھر بھی خدا تعالیٰ کے غضب کا سلسلہ اس بدقسمت سرزمین پر جاری ہے۔اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کا بل کی زمین اُس پیغام کو تعظیم نہیں دیتی جس پیغام کے لئے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل و شرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق ہے جس سے ہوں طے سارے جنگل پر خطر ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار عشق ۷۰۔احمدیت کا روشن مستقبل حضرت مسیح موعود نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد ایک کتاب ”تذکرۃ الشہادتین، تصنیف فرمائی جس میں آپ کے واقعات شہادت کا تفصیلی ذکر فرمانے کے ساتھ ساتھ جماعت کی ترقی سے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی بھی فرمائی جس میں آپ نے لکھا۔”اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس