روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 46 of 104

روشنی کا سفر — Page 46

۴۷ محمود کی آمین جون 1897ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ختم قرآن کی مبارک تقریب ہوئی جس میں کافی تعداد میں احباب نے شرکت کی۔اور حضرت اقدس نے اس موقع پر تمام حاضرین کیلئے ایک دعوت کا اہتمام بھی فرمایا۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ (حضرت اماں جان ) نے اس تقریب آمین کیلئے امرتسر سے ایک شائع شدہ منظوم آمین بھی منگوائی تھی جس کے ہر شعر کے آخر میں ”سبحان من سیرانی آتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے اس منظوم آمین کے بجائے ایک اور آمین تحریر فرمائی جو فوری طور پر چھپوائی گئی اور اس تقریب میں پڑھ کر سنائی گئی۔یہ آمین کچے دلی جذبات اور دعاؤں پر مشتمل تھی جس کے ہر ہر شعر سے محبت ٹپکتی ہے۔آج بھی خوشی کے اکثر مواقع پر یہ ظم پڑھی جاتی ہے اور دلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔حمد و ثناء اسی کو جو ذات جادوانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سبحان من میرانی پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنائیں گایا تو نے یہ دن یہ دن دکھایا دکھایا محمود صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا روز کر مبارک سبحان من برانی ہے آج ختم قرآں نکلے ہیں دل کے ارماں تو نے دکھایا یہ دن میں تیرے منہ کے قرباں اے میرے رب محسن کیونکر ہو شکر احساں روز کر مبارک سبحان من برانی اے قادر و توانا آفات سے بچانا ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا غیروں دل غنی ہے جب سے ہے روز کر مبارک سبحان تجھ کو جانا من میرانی ( در نمین)