ضیاءالحق — Page 313
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۳ ضیاء الحق ہی باطل ثابت ہوتی وجہ یہ کہ پیشگوئی کا مفہوم یہی چاہتا تھا کہ شرط کے پوری کرنے کی حالت میں ضرور آتھم میعاد معینہ میں زندہ رہے۔ اب جب کہ یہ امر طے ہو گیا کہ پیشگوئی صرف موت کی ہی خبر نہیں دیتی تھی بلکہ اپنے دوسرے پہلو سے آتھم کو اس کی حیات کی بھی خوشخبری دیتی تھی اور شرط کے بجالانے کے وقت اس کا زندہ رہنا ایسا ہی پیشگوئی کی سچائی پر دلالت کرتا تھا جیسا کہ اس صورت میں دلالت کرتا کہ وہ بوجہ عدم پابندی شرط فوت ہو جاتا تو پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ پیشگوئی کی شرط کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور نہ خدا سے ڈرتے ہیں اور نہ اس ذلت سے جو انصاف کو چھوڑنے کی حالت میں لعنت کی طرح دامن گیر ہو جاتی ہے۔ صاحبو اگر پہلے نہیں سمجھا تو اب سمجھ لو کہ یہ پیشگوئی در حقیقت دو پہلو رکھتی تھی جس کی تاخیر نہ صرف مرنا تھا بلکہ دوسرے پہلو کے لحاظ سے زندہ رہنا اور موت سے بچ جانا بھی اس کی ضروری تا شیر تھی۔ پھر اگر ہمارے مخالفوں اور جلد بازوں کے دلوں میں انصاف ہوتا تو صرف عدم موت پر سیا پا نہ کیا جاتا بلکہ شرط کے مفہوم کو تنقیح طلب امر ٹھہراتے یعنی یہ امر کہ آیا آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا یا نہیں پھر اگر دیکھتے کہ اس کے ان حالات سے جو اس نے (۴) پیشگوئی کے اثناء میں ظاہر کئے اور ان حالات سے جو مطالبہ قسم کے وقت اس نے دکھلائے رجوع ثابت نہیں ہوتا تو جس طرح چاہتے شور مچاتے لیکن افسوس کہ ان ظالم بداندیشوں نے اس طرف رخ بھی نہیں کیا۔ اے دنیا کے دانشمند و خدا کے لئے بھی کچھ عقل خرچ کرو اور ذرا سوچو کہ جس حالت میں پیشگوئی میں شرط موجود تھی اور آنتظم نے نہ صرف اپنے مضطر بانہ افعال سے ثابت کیا کہ پیشگوئی کے اثنا میں عیسائیت کا استقلال اس سے الگ ہو گیا تھا۔ اور اسلامی عظمت نے ایک دیوانہ سا اس کو بنا دیا تھا بلکہ اس نے اپنی زبان سے بھی اقرار کیا جو نورافشاں میں چھپ گیا کہ میں اثناء پیشگوئی میں ضرور ڈرتا رہا لیکن نہ اسلام سے بلکہ اس لئے کہ میرے پر