ضیاءالحق — Page 306
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۶ ضیاء الحق کے تمسک بالظا ہر پر غالب ہے ۔ گو ایک جلد باز اور دھوکا کھانے والا حضرت مسیح کی تاویل پر ٹھٹھا اور جنسی کرے گا کہ اپنی نبوت کے ثابت کرنے کیلئے تاویلات رکیکہ سے کام لیا ہے۔ لیکن جو شخص قرآن کا علم رکھتا ہے ۔ اور سنت اللہ کے سلسلہ پر اس کو نظر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ حتمی وعدہ خدا تعالیٰ کا یہی ہے کہ اس جہان سے گذرنے والے پھر آسمان سے نہیں اترا کرتے وہ نہ صرف حضرت مسیح کی تاویل کو قبول کرے گا بلکہ اس تاویل سے لذت بھی اٹھائے گا۔ کیونکہ وہ تاویل عہد قدیم کے مطابق ہے ۔ اگر چہ (۴۳) نابکار یہودی اب تک یہی روتے ہیں کہ مسیح نے اپنی جھوٹی نبوت کو لوگوں میں جمانے کے لئے پاک کتابوں کی ظاہر نص کو چھوڑ دیا ہے اور جب ان سے کبھی گفتگو کا اتفاق پڑے تو یہی دھوکا دینے والا عذر پیش کرتے ہیں اور ایک ناواقف آدمی جب ان کے اس عذر کو سنے تو ضرور وہ حضرت مسیح کی نبوت کی نسبت کچھ متذبذب ہو جائے گا اور قریب ہے جو ان کو فریبی اور جھوٹا کہہ کر اپنے تئیں ہلاک کرے۔ اور غالباً یہ اعتراض حال کے ملحدوں نے یہودیوں سے ہی لیا ہے کہ جس حالت میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح مردے زندہ کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ تو تمام مردے اور تمام مقدس نبی زندہ ہو کر شہر میں بھی آگئے تھے تو وہ ایلیا عَلَیهِ السَّلام جن کے نہ دوبارہ آنے کی وجہ سے حضرت مسیح نے ناچار ہو کرتا ویلات رکیکہ سے کام لیا۔ کیوں ان کو اپنی تصدیق نبوت کے لئے کیوں یہودیوں کو دکھلا کر اس جھگڑے کو طے نہ کر لیا۔ اور کیوں تاویلات رکیکہ کی مصیبت میں پڑے ۔ جو شخص اپنے اقتدار سے مردہ کو آپ زندہ کر سکتا تھا چاہئے تھا۔ کہ پیشگوئی کی علامت پوری کرنے کے لئے زندہ کرتا یا آسمان سے ہی اتارا ہوتا۔ خدائی کے کام تو كُن فَيَكُونُ سے چلتے ہیں ۔مگر اس خدا کو کیا پیش آیا کہ شریر یہودی