ضیاءالحق — Page 305
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۵ ضیاء الحق کی طرح نصوص صریحہ توریت سے ان پر نہیں کھلا تھا کہ کوئی شخص اس جہان سے گذر کر (۲۲) پھر اس دنیا میں آباد ہونے کے لئے نہیں آسکتا اس لئے وہ اس گرداب میں پڑے اور ان کا اس بات پر زور دینا سراسر حماقت تھا کہ بیچ بیچ حضرت ایلیا علیہ السلام دوبارہ آسمان پر سے مسیح موعود سے پہلے تشریف لے آئیں گے اور ان کے پاس اس طرح دوبارہ آجانے کی کوئی نظیر بھی نہیں تھی ۔ ہاں آج کل کے ظاہری ٹیم ملاؤں کی طرح صرف الفاظ پر زور تھا۔ اور ایک نادان کی نظر میں بظاہر یہودیوں کی حجت ایلیا کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی میں قومی معلوم ہوتی تھی اور حضرت عیسی کی تاویل کچھ رکیک اور بودی سی پائی جاتی تھی کیونکہ ظاہر نص یہودیوں کا مؤید تھا لیکن اس سنت اللہ پر نظر ڈالنے کے بعد جو قرآن کریم سے مفصل معلوم ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بالکل صاف ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا میں کسی کے دوبارہ آنے اور دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے بارے میں یہ کتاب کریم صاف فیصلہ کرتی ہے کہ ایسا ہونا سنت اللہ کے خلاف ہے۔ پس جبکہ دوبارہ آنا دنیا میں ممتنع ہوا تو پھر حضرت ایلیا علیه السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور یہودیوں کے دلوں کو مسیح موعود سے پہلے آکر درست کرنا بد یہی البطلان ہوا۔ ہاں یہ مسئلہ بغیر قرآن کریم پر ایمان لانے کے سمجھ میں نہیں آتا اور اگر تو ریت پر ہی حصر رکھا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسیح ہرگز نبی صادق نہیں تھا !!! ایک مصیبت تو مسیح کے بارے میں یہی پیش آئی تھی ۔ دوسرے ظالم عیسائیوں نے اپنے ہاتھوں سے مسیح کو تو ریت استثنا باب ۱۳ کا مصداق ٹھہرا کر بچے نبیوں کے طریق اور شان سے بکتی ہے نصیب اور محروم کر دیا ۔ اور یاد رہے کہ نظر عمیق کے بعد حضرت مسیح کی تاویل یہودیوں