ضیاءالحق — Page 304
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۴ ضياء الحق کفر صریح قرار دیتے ہیں ۔ اور ایلیا کے قصہ میں یہودیوں کی یہ حجت کہ اگر یہی شخص در حقیقت مسیح موعود تھا تو ایلیا کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کیوں دھو کہ دیا۔ اس طرح پیشگوئی کے الفاظ کیوں نہ لکھے کہ ضرور ہے کہ مسیح سے پہلے بیٹی بن زکریا آوے اور جبکہ نص کتاب اللہ کے ظاہر الفاظ پر ایمان لانا ضروری ہے تو ایسے موقعہ پر تاویلیں کرنا کفر ہے۔ یہ وہ حجت ہے جواب تک یہودی لوگ انکار نبوت مسیح میں پیش کرتے ہیں ۔ ۔ لیکن اب ہم قرآنی معارف سے قوت پا کر کہہ سکتے ہیں کہ جبکہ مسیح کی نبوت قرآن کے نزول سے بپا یہ صداقت پہنچ گئی ہے تو گو ظاہر الفاظ پیشگوئی کے کیسے ہی ان کے مخالف پڑے ہوں ۔ تب بھی ہمیں ان کی تاویل کر لینی چاہیے۔ چونکہ پیشگوئیوں میں اکثر استعارات بھی ہوتے ہیں جن سے خلق اللہ کا ابتلا منظور ہوتا ہے۔ تو کیوں ایلیا کی پیشگوئی کو بھی استعارات کی قبیل سے نہ سمجھا جائے ۔ یہودی لوگ خدا تعالیٰ کی ان سنتوں سے اچھی طرح واقفیت نہیں رکھتے تھے کہ کبھی الہی پیشگوئیوں میں اس طور کے استعارات بھی واقع ہو جاتے ہیں کہ نام کسی کا لیا جاتا ہے اور قرائن کی رو سے مراد کوئی اور ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس امت پر احسان کیا کہ یہ تمام معارف اور سنن اللہ سمجھا دیئے بلکہ ان طریقوں کو کئی مواضع میں آپ اختیار کر کے بخوبی تفہیم کر دی ۔ دیکھو کیونکر اپنے زمانہ کے یہودیوں کو ملزم کیا کہ تم نے موسیٰ کی نافرمانی کی ۔ هَارُون کا مقابلہ کیا ۔ حالانکہ اس جرم کے مجرم وہ تو نہیں تھے بلکہ ان کے باپ دادے تھے اور بخوبی بار بار سمجھا دیا کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا میں نہیں آیا کرتا مگر یہ سمجھ یہودیوں کو نہیں دی گئی تھی اور توریت کے طرز و طریق نے ان کو قیامت کی نسبت بھی شک و شبہ میں رکھا تھا اور قرآن شریف