ضیاءالحق — Page 301
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۱ ضیاء الحق نے صفائی سے نہیں دیا۔ آخر اسی وجہ سے قسم کی ضرورت پیش آئی مگر اس نے ایک جھوٹے عذر سے قسم کو بھی ٹال دیا۔ ہمارے مولویوں اور اخبار نویسوں میں اگر حق کی تائید کا کچھ مادہ ہوتا تو وہ اسی وقت دین کی تائید میں نتیجہ نکال لیتے جبکہ آتھم نے (۳۹) اپنے ڈرتے رہنے کی یہ وجہ بیان کر دی تھی کہ میرے پر تین حملے ہوئے اور اگر اس پر تسلی نہ پکڑ سکتے تو آ ھم کو قسم پر مجبور کرتے کیونکہ جب آٹھم اپنے قول و فعل سے خوف شدید کا قائل ہو چکا تھا تو یہ مطالبہ قانونا وشرعاً اس سے واجب تھا کہ کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ تمام خوف پیشگوئی کی وجہ سے تھا خاص کر جب کہ وہ وجوہ خوف جو بیان کئے گئے بالکل جھوٹے اور نکھے اور بد بودار اور بناوٹی ثابت ہوئے اور یہ اسکی نہایت ہی رعایت کی گئی تھی کہ باوجود یکہ اس کی دروغ گوئی پر قرائن قویہ قائم ہو چکے تھے اور نا معقول عذروں سے جرم بپایہ ثبوت پہنچ گیا تھا پھر بھی ہم نے اس سے قسم کا مطالبہ کر کے وعدہ کیا کہ ہم اس کو قسم کے بدنتائج نہ پیدا ہونے پر راست باز سمجھ لیں گے اور نہ صرف یہی بلکہ چار ہزار روپیہ نقد دیں گے مگر وہ پھر بھی بھاگ گیا اور قسم نہ کھائی ۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ اس کے ایسے کھلے کھلے گریز پر فتح کا نقارہ بجاتے نہ کہ عیسائیوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے لیکن جب تک انسان بخل سے خالی نہ ہو تب تک حقیقت میں اندھا ہوتا ہے۔ اور عیسائیوں کی حالت پر نہایت تعجب ہے کہ اس پیشگوئی پر جو ایسی صفائی سے اپنی شرط کے پہلو پر پوری ہوگئی انہوں نے محض شرارت سے وہ شور اور شر کیا اور وہ تو ہین اور گندی گالیاں دیں اور کوچوں بازاروں میں شیطانی بہروپ دکھلائے جو اپنی ساری فطرت کے پردے کھول دیئے، حالانکہ پیشگوئی میں ایک صاف شرط موجود تھی اور قرائن قویہ کی رو سے وہ شرط پوری ہو چکی