ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 581

ضیاءالحق — Page 302

روحانی خزائن جلد ۹ ٣٠٢ ضیاءالحق تھی ۔ اور ہر ایک بات میں قابل الزام آنتھم تھا اور اس کی گفتار سے اس کا مکار اور جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا تھا۔ افسوس کہ انہوں نے اس روشن پیشگوئی سے تو انکار کیا مگر ان کو حضرت مسیح کی وہ پیشگوئیاں یاد نہ رہیں جو اپنے ظاہری معنوں میں پوری نہ ہوئیں بلکہ ان کا خلاف واقعہ ہونا ایسے طور سے کھلا کہ کوئی تاویل بھی وہاں پیش نہیں کی جا سکتی ۔ دیکھو حضرت مسیح کا کس زور سے دعویٰ تھا کہ اس زمانہ کے بعض لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ میں پھر آ جاؤں گا۔ لیکن وہ سب مر گئے اور اس پر اٹھارہ سو برس اور بھی گذر گئے ۔ اور وہ جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے اب تک نہ آسکے !!! پھر اس سے عجیب تریہ کہ پہلی کتابوں میں ۲۰ حضرت مسیح کی نسبت یہ پیشگوئی درج تھی کہ ضرور ہے کہ پہلے اس سے ایلیا آوے یعنی وہ نبی ایلیا نام جو اس جہاں سے مدت پہلے گزر چکا تھا لیکن ایلیا نہ آیا اور یہودیوں نے حضرت مسیح کو الزام دیا کہ ایلیا تو ابھی آسمان سے اترا ہی نہیں آپ کیونکر نبی ہو سکتے ہیں ۔ اس کا جواب حضرت مسیح کچھ بھی نہیں دے سکے بجز اس کے کہ بیٹی زکریا کا بیٹا ہی ایلیا ہے مگر ظاہر ہے کہ یہ جواب تو ایک تاویل ہے جو پیشگوئی کے ظاہر الفاظ سے بالکل مخالف پڑی ہے۔ اگر ایسی ہی تاویل سے کوئی پیشگوئی پوری ہوسکتی تھی تو ہر ایک شخص ایسی تاویل کر سکتا تھا۔ اور تعجب تو یہ کہ حضرت یحیی کو ایلیا ہونے سے انکار ہے۔ اب اس انکار سے وہ تاویل بھی بے ہودہ ہو گئی اور جبکہ تمام مدار حضرت مسیح کے سچا نبی ہونے کا اسی پیشگوئی کے پورا ہونے پر تھا اور یہ پوری نہ ہوئی تو حضرات پادری صاحبان تو حضرت مسیح کی خدائی کو روتے ہیں اور یہاں نبوت بھی ہاتھ سے گئی بلکہ کاذب اور مفتری ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایلیا کے آنے سے جو شخص پہلے مسیح ہونے کا دعوی کرے وہ دعوئی اس کا صحیح نہیں ہے ۔ چنانچہ یہودی اب تک یہی حجت پیش کرتے ہیں اور خواہر