ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 581

ضیاءالحق — Page 296

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۶ ضیاءالحق بول گیا کہ وہ انسانی حملے تھے مگر وہ اس جھوٹے منصو بہ کو ثابت نہ کر سکا ۔ پس اگر ہمارے مولویوں اور اخبار نویسوں میں کچھ بھی دیانت اور حمایت دینی کا جوش ہوتا تو وہ ایسی بے ثبوت تہمت پر اس کو پکڑ لیتے اور سمجھ جاتے کہ اس مکار دنیا پرست نے یہ جھوٹ محض اس لئے باندھا ہے کہ تا اس خوف کو جس کو وہ چھپا نہیں سکتا تھا ان تاویلوں سے پوشیدہ کر لے لیکن یہ اندھے مولوی اور جاہل اخبار نویس تو دیوانہ درندوں کی طرح اپنے ہی گھر کے مسمار کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر ذرہ ہوش سنبھال کر الہام کی شرط کو دیکھتے اور ایک با فراست دل لے کر آتھم کے ان حالات پر نظر ڈالتے جو اس نے میعاد کے اندر ظاہر کئے تو ان پر کھل جاتا کہ ضرور پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ لیکن بد بخت انسان ہمیشہ شتاب کاری سے اپنی عاقبت خراب کرتے رہے ہیں ۔ افسوس ان لوگوں نے نہ سوچا کہ کیا عیسائی قوم ایسی راست با زقوم ہے جس کی ہر ایک بات خواہ نخواہ تسلیم ہی کر لینی چاہیے ۔ جب بقول آتھم امرتسر میں اس پر حملہ ہوا یعنی ایک تعلیم یافتہ سانپ نے اس کو ڈس کر ہلاک کرنا چاہا اس پر آ ھم کا یہ جواب ہے کہ چونکہ عیسائی نہایت ہی نیک طینت اور راستباز ہیں ۔ اس لئے اس حملہ کے بارہ میں گورنمنٹ میں شکایت نہیں کی گئی اور نہ عدالت میں کوئی نالش ہوئی بلکہ دیدہ و دانستہ مجرموں کو چھوڑ دیا کیونکہ عیسائی بُردباری ایسی ہی مروت اور درگذرکو چاہتی تھی ۔ پھر بقول اُس کے دوسری دفعہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں نے بمقام لو د یا نہ نیزوں کے ساتھ اس پر حملہ کیا مگر بقول اس کے اب بھی اس کی صاف دلی جو پولس رسول سے بطور وراثت چلی آتی ہے انتقام