ضیاءالحق — Page 287
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۷ ضياء الحق ہے کہ اگر کوئی لفظ دو معنوں کا متحمل ہو تو پیشگوئی کے انجام کے بعد جو معنے واقعات موجودہ سے ظاہر ہوں وہی لئے جائیں گے ۔ سو واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ آتھم صاحب نے پوشیدہ طور پر اسلام کا خوف اپنے دل پر غالب کیا ۔ اور اپنے عیسائی تعصب کی اندر ہی اندر اصلاح کی ۔ اور اندر ہی اندر رجوع سحق کیا ۔ اس لئے وہ شرط پوری ہوگئی جو عذاب کے عدم نزول کے لئے بطور روک کے تھی ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی شرطوں کا لحاظ رکھتا ۔ چونکہ ہمارے اس الہام میں صریح اور صاف شرط تھی کہ حق کی طرف رجوع کرنے سے عذاب ٹل جائے گا ۔ اور آتھم کی حرکات مذکورہ بالا نے رجوع کے مفہوم کو پورا کر دیا اس لئے پیشگوئی حقاً وصدقاً پوری ہو گئی ۔ آنتقم کا یہ بیان تھا کہ میں ڈرتا تو ضرور ر ہا مگر پیشگوئی کی سچائی سے نہیں بلکہ (۲۹) مجھے بار بار خونی فرشتے نیزوں اور تلواروں کے ساتھ نظر آتے رہے ۔ پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ڈر کا صاف اقرار آتھم کے منہ سے نکل گیا لیکن آتھم نے اس بات کا کچھ بھی ثبوت نہیں دیا۔ کہ ہماری جماعت نے فی الحقیقت نیزوں اور تلواروں اور سانپوں کے ساتھ تین مرتبہ اس پر حملہ کیا ۔ اور خوف کرنے کا دوسرا پہلو اسی بات پر مبنی تھا کہ آئقم معتبر شہادتوں سے اس بات کا ثبوت دیتا کہ ہماری جماعت کا فلاں فلاں آدمی نیزوں اور تلواروں کے ساتھ تین شہروں میں اس کی کوٹھی پر پہنچا تھا یا گورنمنٹ کے ذریعہ سے اس بات کو ثابت کرتا اور ہم پر اس بارے میں نالش کرتا مگر آتھم اس ثبوت کے دینے سے عاجز رہا بلکہ ہم نے