ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 581

ضیاءالحق — Page 276

روحانی خزائن جلد ۹ ضیاء الحق حق کی طرف رجوع دلایا اور ان کا دل خوف سے بھر گیا ۔ اور منہ پر مہر لگ گئی ۔ ان کا فرض تھا کہ پہلے حملہ میں ہی تھا نہ میں رپورٹ کرتے گورنمنٹ کو اطلاع دیتے اور حلیہ لکھواتے اور صورت شکل اور وردی اور تمام قرائن سے حکام کو مطلع کرتے تا گورنمنٹ اشتہار دے کر ایسے بدمعاشوں کو ماخوذ کرتی اور ایسے پلید مجرموں کو واجبی سزا کا مزہ چکھاتی اور کم سے کم یہ تو چاہیے تھا کہ وکیلوں کے مشورہ سے ایک عرضی دے کر مجرموں کو سزا دلاتے یا احتیاطی طور پر اس عاجز سے اس مضمون کا مچلکہ لکھواتے کہ اگر آتھم پیشگوئی کی میعاد میں مارا گیا تو یہ جرم قتل عمد تمہارے ذمہ لگایا جائے گا کیونکہ جو شخص پہلے ان کی موت کی جھوٹی پیشگوئی کر چکا اور پھر اس کی جماعت کی طرف سے قتل کرنے کے لئے تین حملے بھی ہوئے کیا ایسے شخص کا مچلکہ لینے سے گورنمنٹ کو کچھ تامل ہوسکتا ہے۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ آتھم صاحب پندرہ ماہ تک ایک جلتے ہوئے تنور میں پڑے رہے اور بار بار خوفناک حملوں سے کچلے گئے مگر انہوں نے کسی مقام میں باضابطہ تحقیقات نہ کرائی ۔ امرتسر سے سانپ کے حملہ پر چپکے ہی نکل آئے ۔ پھر لودھیا نہ پہنچے اور ساتھ ہی حملے والے بھی پہنچ گئے اور مارنے میں کچھ بھی کسر نہ رکھی ۔ تب بھی آتھم صاحب نے گورنمنٹ میں جا کر سیا پا نہ کیا کہ یہ دشمن میرے قتل کے درپے ہیں ۔ میری کوٹھی پر مسلح ہو کر آئے سرکار ان کا مچلکہ لے اور مجھ کو ان کے شر سے بچالے بلکہ ان کو چاہیے تھا کہ تعلیم یافتہ سانپ کے حملہ پر ہی دہائی دیتے کہ لوگو د یکھو پیشگوئی کی حقیقت معلوم ہوئی ۔ ہمارے ناظرین! اے اخباروں کے ایڈیٹرو !