ضیاءالحق — Page 277
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۷ ضياء الحق اے رسالوں کے شائع کرنے والو! آپ لوگوں نے آتھم صاحب کی ہمدردی تو بہت کی بلکہ بعض نے لکھا کہ آتھم صاحب خلق اللہ پر بہت ہی احسان کریں گے اگر ایسے کذاب پر نال کر کے اس کو سزا دلائیں گے مگر اب آنکھیں کھول کر دیکھو کہ قرائن قو یہ کس کو کذاب ثابت کرتے ہیں ۔ ہم تم سے اسلام کی ہمدردی نہیں چاہتے ہم تم کو یہ الزام نہیں دیتے کہ مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر پادریوں کی ناحق کی حمایت کیوں کی کیونکہ یہ بات کہنے والا اور پوچھنے والا ایک ہی ہے جو مطالبہ کے دن میں ظالم کو بے را نہیں چھوڑے گا ۔ ہم تمہاری گالیوں اور لعنتوں سے بھی ناراض نہیں کیونکہ بہ نسبت پہلے (۲۲) راست بازوں کے یہ بہت ہی تھوڑا دکھ ہے جو ہم کو تم سے پہنچا ہے لیکن اگر ہمیں افسوس ہے تو صرف یہی کہ تم نے دین کی کچی حمایت کو بھی چھوڑا اور پادریوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی ۔ مگر آخری نتیجہ تمہارے لئے اس ندامت کا حصہ ہوا جس کو دوسرے لفظوں میں خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة کہتے ہیں ۔ اس بات کا ہم کو بھی افسوس ہے کہ باوجود یکہ دین کو تم نے اس طرح پھینک دیا کہ جس طرح ایک ناکارہ تنکا پھینکا جاتا ہے ۔ مگر پھر بھی تم کسی ایسی تعریف کے لائق نہ ٹھہرے جو کسی عقلمند عمیق الرائے کے بارہ میں ہو سکتی ہے بلکہ وہ خفت اور خجالت اٹھائی جو ہمیشہ جلد باز اور شتاب کار اٹھایا کرتے ہیں در حقیقت جو شخص نفسانی جوش میں آ کر یا جلد بازی کی وجہ سے اللہ اور رسول کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا اس کو ایسے دن دیکھنے پڑتے ہیں ۔ کیا کبھی تم نے سنا کہ کسی ایسے مباحثہ میں کہ جس کی حمایت حملا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نالش “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے بے سزا ہونا چاہیے۔ (ناشر )