ضیاءالحق — Page 271
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۱ ضیاء الحق اخباروں میں ان متواتر تین واقعات کو قبل گزرنے میعاد کے چھپوایا اور نہ مجرموں کا کوئی حلیہ بیان کیا اور نہ ان کے بھاگنے کے وقت کوئی کپڑا وغیرہ ان کا چھین لیا۔ یہ تمام وہ امور ہیں جو آتھم صاحب کو جو اکسٹرا اسسٹنٹی وغیرہ کرتے بوڑھے ہو گئے کامل طور پر ملزم کر رہے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ ان الزاموں سے بریت ثابت کرانے کے لئے اگر پہلے نہیں ہو سکا تو بعد میں ہی نالش کر دیتے اور تین حملوں کا عدالت میں ثبوت دے کر ایک تو جھوٹی پیشگوئی کی سزا دلواتے اور دوسرے اقدام قتل کی سزا سے بھی خالی نہ چھوڑتے لیکن وہ ایسے چپ ہوئے کہ ان کی طرف سے آواز نہ اٹھی ۔ بعض اخبار والوں نے بھی بہت سیا پا کیا مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی ۔ ڈاکٹر کلارک مارٹن سرکھپا کھپا کر رہ گیا مگر انہوں نے اس کے جواب میں بھی دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے حالانکہ عقلاً و انصاف و قانونا ان کا دامن اسی حالت میں پاک ہو سکتا تھا۔ جبکہ وہ اپنے ان دعووں کو جن پر خوف کی بنیاد رکھی گئی تھی بذریعہ نالش یا جس طرح چاہتے ثابت کر دکھاتے ۔ اور ان کی یہ تین حالتیں کہ ایک طرف تو انہوں نے اپنے اقرار اور اپنے افعال و حرکات سے اثناء پیشگوئی میں اپنا سخت درجہ پر ڈرتے رہنا ظاہر کیا۔ اور دوسرے یہ کہ اس ڈر کی وجہ تین حملے بتلائے جو بغیر پورے ثبوت کے کسی عظمند کے نزدیک قابل تسلیم نہیں ہیں بلکہ قیاس اور عقل سے بھی دور ہیں۔ اور تیسرے یہ کہ ان تین حملوں اور بے جا الزاموں کا کچھ بھی ثبوت نہیں دیا نہ عدالت کے ذریعہ سے نہ دوسرے کسی طریق سے۔ یہ تینوں حالتیں ان کو اس بات کی طرف مجبور کرتی تھیں کہ اگر ان کے پاس