ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 581

ضیاءالحق — Page 272

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۲ ان بے جا الزاموں کا کوئی بھی ثبوت نہیں تو وہ قسم ہی کھا لیتے ۔ ضياء الحق پس ان کے دروغ گو اور ناحق ہونے پر چوتھا قرینہ یہی ہے کہ وہ قسم سے المجلة بھی گریز کر گئے اور چار ہزار رو پید ان کے لئے نقد پیش کیا گیا مگر مارے خوف کے انہوں نے دم نہ مارا۔ ہمارا قسم لینے سے کیا مدعا تھا یہی تو تھا کہ جس ڈر کے وہ اقراری ہو کر پھر خلاف واقعہ اور خلاف قیاس یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہ ڈرتین کمتواتر حملوں کی وجہ سے تھا یہ غیر معقول عذر انہوں نے ثابت نہیں کیا اور نہ یہ ثابت کر سکے کہ یہ عاجز کوئی مشہور ڈاکو اور خونی ہے جو ان سے پہلے بھی کئی خون کر چکا ہے۔ لہذا انصافاً ان پر لازم تھا کہ ایسی بے جا تہمتوں کے بعد جو قانونا بھی ایک سخت جرم کی صورت رکھتی ہیں ۔ قسم کھانے سے ہرگز دریغ نہ کرتے ۔ اگر واقعی طور پر ان کے مذہب میں قسم کھانے کی ممانعت ہوتی تو ہم سمجھتے کہ مذہب نے ان کو قسم سے جو بریت کا مدار تھا محروم رکھا لیکن ہم نے تو اپنے اشتہار چہارم میں ان کی بائبل ان کے سامنے کھول کر رکھ دی اور ثابت کر دیا کہ ان کے عام بزرگ قسم کھاتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا پولوس رسول بھی جس کے اجتہاد اور طریق سے منہ پھیرنا ایک عیسائی کے لئے کفر اور بے ایمانی میں داخل ہے۔ وہ بھی قسم کھانے سے نہیں بچ سکا ( دیکھو قرنتیان ۱۵ باب ۳۱ آیت) ان قسموں کی تفصیل کے لئے ہمارا اشتہار چهارم مورخہ ۲۷ را کتوبر ۱۸۹۴ء پڑھنا چاہیے تا معلوم ہو کہ جو از قسم میں ہم نے کس قدر ثبوت دیا ہے ۔ اور نہ صرف انجیل بلکہ تمام بائبل کے حوالے دیئے ہیں مگر آتھم صاحب نے اپنی انجیل کی ذرہ بھی پر واہ نہیں کی ۔ وجہ یہ کہ وہی آسمانی رعب ان کے دل