ضیاءالحق — Page 266
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۶ ضیاء الحق پہلو پر ثابت نہیں کر سکے جس سے وہ تمام حملے انسانی حملے سمجھے جاتے ۔ تو اب اس سوال سے بچنے کے لئے کہ کیوں یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ بعید از قیاس مشاہدات ان کے جن میں سے سب سے پہلے سانپ کے حملے کا مشاہدہ ہے۔ انہیں کے پر خوف تخیلات کا نتیجہ اور انہیں کے خوف زدہ دماغ سے متمثل ہو گئے ہیں کم سے کم یہ ضروری تھا کہ وہ اس قریب العقل الزام سے اپنی بریت ظاہر کرنے کے لئے قسم کھا جاتے ۔ یعنی جلسہ عام میں قسما یہ بیان کر دیتے کہ وہ الہام کو منجانب اللہ الہام سمجھ کر نہیں ڈرے اور نہ حقیت اسلام کی ان کے دل میں سائی بلکہ واقعی طور پر تعلیم یافتہ سانپ سے لے کر اخیر تک تین متواتر حملے ہماری جماعت کی طرف سے ان پر ہوئے جن سے وہ ڈرتے رہے کیونکہ اس مقدمہ کی صورت ایسی ہے کہ صرف ہمارا ہی الہام ان کو ملزم نہیں کرتا بلکہ ساتھ اس کے ان کو انہیں کا قول و فعل بھی ملزم کر رہا ہے ۔ اور یہ یادر ہے کہ یہ وہی آتھم صاحب ہیں جنہوں نے بحث سے پہلے (۱۳) ایک اپنی دستخطی نوشت ہم کو دے دی تھی کہ کوئی نشان دیکھنے پر ضرور میں اپنے مذہب کی اصلاح کرلوں گا جس سے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ کسی قدر اصلاح کی اپنے اندر جرات بھی رکھتے تھے سو خوفناک نظارے جو ان کے لئے نشان کے حکم میں تھے اس پوشیدہ رجوع کے محرک ہو گئے ۔ (۲) پھر دوسرا قرینہ یہ ہے کہ جب آتھم صاحب امرتسر سے تعلیم یا فتہ سانپ کے حملہ سے ڈر کر بھاگے اور لدھیانہ میں اپنے داماد کے پاس پناہ گزین ہوئے تو اس جگہ بھی شدید خوف کے دورہ کے وقت وہی تمنلی نظارہ آتھم صاحب کی آنکھوں کے آگے پھر گیا جو غلبہ خوف کے وقت پھرا