ضیاءالحق — Page 262
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۲ ضیاء الحق میں آتھم نے خود شائع کرا دیا تو ڈرانے والی تمثلات کا نظارہ شروع ہو گیا ۔ اور ابتدا اس سے ہوئی کہ آتھم کو خونی سانپ نظر آنے لگے پھر تو غیر ممکن تھا کہ سانپوں والی زمین میں وہ بود و باش رکھتا کیونکہ سانپ کی ہیبت بھی شیر کی ہیبت سے کچھ کم نہیں ہوتی ۔ پس اس نے ناچار ہو کر اس زمین سے جہاں سانپ دکھائی دیا تھا جو اس کی نگاہ میں خاص اسی کے ڈسنے کے لئے آیا تھا کسی دور دراز شہر کی طرف کوچ کرنا قرین مصلحت سمجھا یا یوں کہو کہ سانپ کی رویت کے بعد پیشگوئی کی تصویر ایک ایسی چمک کے ساتھ اس کو نظر آئی کہ اس چمک کے مقابل پر وہ ٹھہر نہ سکا اور اندرونی گھبراہٹ نے بھاگنے پر مجبور کیا اور آتھم صاحب کا یہ قول کہ وہ سانپ تعلیم یافتہ تھا اور ان کے ڈسنے کو ہماری جماعت کے بعض لوگوں نے چھوڑا تھا اس کی بحث ہم جدا بیان کریں گے ۔ بالفعل سیہ بیان کرنا ضروری ہے کہ بموجب اقرار آتھم صاحب کے امرتسر چھوڑنے کا باعث وہ سانپ ہی تھا ۔ جس نے آتھم صاحب کو خوفناک صورت دکھا کر مین گرمی کے موسم میں ان کو سفر کر نے کی تکلیف دی اور بڑی گھبراہٹ کے ساتھ بیوی بچوں سے انہیں علیحدہ کر کے لدھیانہ میں پہنچا یا مگر افسوس کہ وہ سانپ نہ مارا گیا اور نہ اس کا کوئی چھوڑنے والا پکڑا گیا کیونکہ وہ صرف نظر ہی آتا تھا اور کوئی جسمانی وجود نہ تھا ۔ غرض کہ سانپ کی قہری تجلی اور اس کو دیکھ کر آتھم صاحب کا امرتسر کو چھوڑ نا ایک ایسا امر ہے کہ ایک منصف حق جو کے سب عقدے اسی سے حل ہو جاتے ہیں ۔ دنیا سب اندھی نہیں ہر ایک با تمیز سمجھ سکتا ہے کہ یہ الزام کہ گویا ہم نے آتھم صاحب کو ڈسنے کے لئے ایک تعلیم یافتہ سانپ ان کی کوٹھی میں چھوڑ دیا تھا عند العقل اصل