ضیاءالحق — Page 260
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۰ ضیاء الحق موقعہ پر مخالف یہ حق رکھتا ہے کہ قرائن قویہ کا مطالبہ کرے جن کی وجہ سے کہہ سکتے ہوں کہ ضرور اس نے در پردہ رجوع بحق کیا گو زبان سے اس کا قائل نہیں ۔ پس اس جگہ یہ سوال ضرور پیش ہو سکتا ہے کہ آتھم نے اپنے رجوع بحق ہونے کے کون سے قرائن ظاہر کئے جن سے پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ آتھم کا باوجود سخت اصرار عیسائیوں کے نالش نہ کرنا جس کی ضمن میں اس کو ہمارے مطالبہ سے قسم کھانا بھی پڑتا اول قرینہ اس کے رجوع حق ہونے کا ہے۔ اور پھر بعد اس کے اس کا ڈرتے رہنے کا اپنی زبان سے رو رو کر اقرار کرنا یہ دوسرا قرینہ ہے۔ اور پھر ایک خوفناک حالت بنا کر اور سراسیمہ ہوکر شہر بشہر اس کا بھاگتے پھرنا یہ تیسرا قرینہ ہے۔ اور پھر یہ کہنا کہ خونی فرشتوں نے تین مقام پر تین حملے میرے پر کئے یہ چوتھا قرینہ ہے۔ اور پھر با وجود چار ہزار روپیہ پیش کرنے کے قسم نہ کھانا یہ پانچواں قرینہ ہے اور تفصیل ان کی حسب ذیل ہے۔ (۱) اوّل یہ کہ آتھم نے اپنے اس خوف زدہ ہونے کی حالت سے جس کا اس کو خو دا قرار بھی ہے جو نو را فشاں میں شائع ہو چکا ہے ۔ بڑی صفائی سے یہ ثبوت دے دیا ہے کہ وہ ضرور ان ایام میں پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا یعنی اس نے اپنی مضطر بانہ حرکات اور افعال سے ثابت کر دیا کہ ایک سخت غم نے اس کو گھیر لیا ہے اور ایک جانکاہ اندیشہ ہر وقت اور ہر دم اس کے دامنگیر ہے جس کے ڈرانے والے تمثلات نے آخر اس کو امرتسر سے نکال دیا ۔ واضح ہو کہ یہ انسان کی ایک فطری خاصیت ہے کہ جب کوئی سخت خوف اور گھبراہٹ اس کے دل پر غلبہ کر جائے اور غایت درجہ کی بے قراری