ضیاءالحق — Page 259
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۵۹ ضیاء الحق کا کام تھا ۔ جبکہ ایک احتمال کی رو سے خود آتھم نے اپنی کنارہ کشی اور خوف زدہ حالت دکھلا کر پیشگوئی کی صداقت ظاہر کر دی تو کیا یہ ایک بدذاتی نہیں جو اس نتیجہ کو چھپایا جائے جو اس کی خود اپنی کنارہ کشی سے اور پُر خوف حالت سے پیشگوئی کی نسبت قائم ہو گیا ۔ ہم نے کب اور کس وقت آتھم کے کھلے کھلے اسلام لانے کی شرط درج کی تھی ۔ پھر جنہوں نے کھلا کھلا اسلام لانا ضروری سمجھا ۔ کیا انہوں نے سرا سر بد دیانتی سے حق پوشی نہیں کی ۔ کیا انہوں نے ہمارے الفاظ کو نظر انداز کر کے مجرمانہ خیانت کا ارتکاب نہیں کیا ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہ کہنا کہ بشر طیکہ کھلا کھلا لوگوں کے روبرو اسلام لے آوے اور یہ کہنا کہ حق کی طرف رجوع کر لے یہ دونوں فقرے ایک ہی وزن کی کیفیت نہیں رکھتے اور یہ کہنا کہ زید جو ایک نصرانی ہے اس نے رجوع بحق کیا ہے ہر گز اپنی دلالت میں اس دوسرے قول کے مساوی نہیں کہ زید کھلے کھلے طور پر مشرف باسلام ہو گیا بلکہ رجوع بحق ہونے کی خبر میں اس بات کا احتمال باقی ہے کہ بعض قرائن قویہ سے اسلام لانے کا نتیجہ نکالا گیا ہو اور (9) ہنوز کھلے کھلے طور پر زید مشرف با سلام نہ ہوا ہو اسی وجہ سے ایسی خبر کا سننے والا با رہا سوال بھی کرتا ہے کہ کیا وہ کھلے کھلے طور پر مشرف با سلام ہوا یا ہنوز مخفی ہے ۔ اور بارہا یہ جواب پاتا ہے کہ نہیں کھلے طور پر نہیں بلکہ بعض قرائن سے اس کا رجوع معلوم ہوا ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ رجوع کا لفظ کھلے کھلے اسلام ير قطعی الدلالت نہیں بلکہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں دونوں احتمالوں پر مشتمل ہے ۔ اور ایک شق میں اس کو محصور کرنا ایسی بے ایمانی ہے جس کو بجز ایک خبیث النفس کے اور کوئی شریف الطبع استعمال نہیں کر سکتا ۔ ہاں ایسے لانے پر