ضیاءالحق — Page 258
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۵۸ ضیاءالحق آتھم کھلے کھلے طور پر اسلام لے آئے گا اور اس کے مقابل پر رجوع کا لفظ استعمال کرنا جو ایک ادنیٰ حالت التفات الى الحق پر بھی صادق آ سکتا ہے ۔ صاف یہ پیرا یہ یہاں دلالت کر رہا تھا کہ کھلا کھلا اسلام لانا ضروری منشاء پیشگوئی کا نہیں اگر یہی ضروری ہوتا تو اصل الفاظ جن سے یہ مطلب بوضاحت ادا ہوتا ہے کیوں چھوڑ دیئے جاتے ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر ایک منصف کے لئے غور کرنے کی جگہ ہے ۔ اور میں یقین نہیں کرتا کہ کوئی پاک دل آدمی ایک لحظہ بھی اس پر غور کر کے پھر شکوک و شبہات کی مشکلات میں پڑے ۔ مخالفوں کا سارا سیا پا تو اس بات پر ہے کہ آتھم نے اپنی زبان سے عام لوگوں میں اقرار اسلام کیوں نہ کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کھلے کھلے اسلام لانے کی پیشگوئی میں شرط تھی کیا اس تحریر میں جس پر فریقین کے دستخط بروز مباحثہ ہو گئے تھے یہ درج تھا کہ عذاب نہ دارد ہونے کی یہ شرط ہے کہ آتھم کھلے کھلے طور سے مشرف با سلام ہو جائے بلکہ کھلے کھلے تو کیا اس تحریر میں تو اسلام کا بھی کچھ ذکر نہیں تھا صرف رجوع الی الحق کی شرط ہے اور ظاہر ہے کہ رجوع کا لفظ جیسا کہ کبھی کھلے کھلے اسلام لانے پر بولا جا سکتا ہے ایسا ہی کبھی دل میں تسلیم کرنے پر بھی اطلاق پاتا ہے اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ آتھم کے کھلے کھلے اسلام لانے پر کوئی قطعی شرط نہ تھی غایت کا ریہ کہ دو احتمالوں میں سے یہ بھی ایک احتمال تھا پھر اسی پر زور دینا کیا ایمانداری نوٹ: خدائے علیم و حکیم کا پیشگوئی کی شرط میں کھلے کھلے اسلام کا ذکر نہ کرنا خود اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پوشیدہ طور پر رجوع کرے گا فقط ۔ منہ