ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 516 of 630

ضرورة الامام — Page 516

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۶ ضرورة الامام پنجم خط و کتابت ۔ حسب بیان تحریری مختار مرزاغلام احمد اور شہادت گواہان اس میں بہت سا روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ مذہبی تحقیقات کے متعلق جس قدر خط و کتابت ہوتی ہے اس کیلئے مریدوں سے چندہ لیا جاتا ہے۔ الغرض حسب بیان گواہان ان پانچ مدوں میں چندہ کا ۲۵ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور ان ذرائع سے مرزا غلام احمد مع اپنے مریدوں کے اپنے خیالات مذہبی کی اشاعت کرتا ہے۔ یہ سوسائٹی ایک مذہبی گروہ ہے اور چونکہ حضور کو اس گروہ کی نسبت پیشتر سے علم ہے اس لئے اسی مختصر خاکہ پر اکتفا کی جاتی ہے۔ اور اب اصل درخواست عذرداری کے متعلق گزارش کی جاتی ہے۔ مرزاغلام احمد پر امسال ۲۰۰ روپیہ اس کی سالانہ آمدنی قرار دے کر مامی نے انکم ٹیکس قرار دیا گیا۔ اس کی عذرداری پر اس کا اپنا بیان خاص موضع قادیان میں جبکہ کمترین تقریب دورہ اس طرف گیا لیا گیا۔ اور تیراں کسی گواہان کی شہادت قلم بند کی گئی۔ مرزا غلام احمد نے اپنے بیان حلفی میں لکھوایا کہ اس کو تعلقہ داری، زمین اور باغ کی آمدنی ہے۔ تعلقہ داری کی سالانہ تخمینا کی زمین کی تخمینا تین سو روپیہ سالانہ کی اور باغ کی سالانہ تخمینا دو سو تین سو روپیہ چار سو اور حد درجہ پانسو روپیہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دو سو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے ورنہ اوسط سالانہ آمدنی قریباً چار ہزار روپیہ کے ہوتی ہے وہ پانچ مدوں میں جن کا ذکر اوپر کیا گیا خرچ ہوتی ہے اور اس کی ذاتی خرچ میں نہیں آتی۔ خرچ اور آمدنی کا حساب با ضابطہ کوئی نہیں ہے۔ صرف یادداشت سے تخمینا لکھوایا ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کی ذاتی آمدنی باغ ، زمین اور تعلقہ داری کی اس کے خرچ کیلئے کافی ہے اور اس کو کچھ ضرورت نہیں ہے کہ وہ مریدوں کا روپیہ ذاتی خرچ میں لاوے۔ شہادت گواہان بھی مرزا غلام احمد کے بیان کی تائید کرتی ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ مریدان بطور خیرات پانچ مدات مذکورہ بالا کے لئے روپیہ مرزاغلام احمد کو بھیجتے ہیں۔ اور ان ہی مدات میں خرچ ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد کی اپنی ذاتی آمدنی سوائے آمدنی تعلقہ داری، زمین اور باغ کے اور نہیں ہے جو قابل ٹیکس ہو۔ گواہان میں سے چھ گواہ گو معتبر