ضرورة الامام — Page 515
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۵ ضرورة الامام بلاشبه بعض اشخاص جن کی تعداد زیادہ نہیں معزز اور صاحب علم ہیں۔ مرزا غلام احمد کا گروہ جب کچھ بڑھ نکلا تو اس نے اپنی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام میں اپنے اغراض کے پورا کرنے کیلئے اپنے پیروؤں سے چندہ کی درخواست کی اور ان میں پانچ مدات کا ذکر کیا جن کے لئے چندہ کی ضرورت ہے۔ چونکہ مرزا غلام احمد پر اس کے مریدان کا اعتقاد ہو گیا۔ رفتہ رفتہ انہوں نے چندہ بھیجنا شروع کیا اور اپنے خطوط میں بعض دفعہ تو تخصیص کر دی کہ ان کا چندہ ان پانچ مدوں میں سے فلاں مد پر لگا یا جاوے اور بعض دفعہ مرزاغلام احمد کی رائے پر چھوڑ دیا کہ جس مد میں وہ ضروری خیال کریں صرف کریں چنانچہ حسب بیان مرزا غلام احمد عذردار اور بروئے شہادت گواہان چندہ کے روپیہ کا حال اسی طرح ہوتا ہے۔ الغرض یہ گروہ اس وقت بطور ایک مذہبی سوسائٹی کے ہے جس کا سرگروہ مرزا غلام احمد ہے اور باقی سب پیروان ہیں اور چندہ با ہمی سے اپنی سوسائٹی کے اغراض کو بہ سلوک پورا کرتے ہیں۔ جن پانچ مدات کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔ اول مہمان خانہ ۔ جس قدر لوگ مرزا غلام احمد کے پاس قادیان میں آتے ہیں خواہ وہ مرید ہوں یا نہ ہوں لیکن وہ مذہبی تحقیقات کیلئے آئے ہوں ان کو وہاں سے کھانا ملتا ہے اور حسب بیان تحریری مختار مرزا غلام احمد اس مد کے چندہ میں سے مسافروں، یتیموں اور بیواؤں کی بھی امداد کی جاتی ہے۔ دو تم مطبع ۔ اس میں مذہبی کتابیں اور اشتہارات چھاپے جاتے ہیں اور بعض دفعہ لوگوں میں مفت تقسیم ہوتے ہیں۔ سوم مدرسہ۔ مرزا غلام احمد کے مریدوں کی طرف سے ایک مدرسہ قائم کیا گیا ہے لیکن اس کی ابھی ابتدائی حالت ہے اور اس کا اہتمام مولوی نور دین کے سپرد ہے جو مرزا غلام احمد کا ایک مرید خاص ہے۔ چہار تم سالانہ اور دیگر جلسہ جات۔ اس گروہ کے سالانہ جلسے بھی ہوتے ہیں اور ان جلسوں کے سرانجام دینے کے لئے چندہ فراہم کیا جاتا ہے۔