ضرورة الامام — Page 514
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۴ ضرورة الامام پیشتر مرزا غلام احمدپر کبھی ٹیکس تشخیص نہیں ہوا۔ چونکہ یہ ٹیکس نیا لگایا گیا تھا۔ مرزا غلام احمد نے اس پر (۲۳) عدالت حضور میں عذرداری دائر کی جو بنابر دریافت سپر محکمہ ہذا ہوئی۔ پیشتر اس کے کہ انکم ٹیکس کے متعلق جس قدر تحقیقات کی گئی ہے اس کا ذکر کیا جائے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا کچھ کر گوش گذار حضور کیا جاوے تا کہ معلوم ہو کہ عذر دار کون ہے اور کس حیثیت کا آدمی ہے۔ مرزا غلام احمد ایک پرانے معزز خاندان مغل میں سے ہے جو موضع قادیان میں عرصہ سے سکونت پذیر ہے اس کا والد مرزا غلام مرتضیٰ ایک معزز زمیندار تھا اور موضع قادیان کا رئیس تھا۔ اس نے اپنی وفات پر ایک معقول جائیداد چھوڑی۔ اس میں سے کچھ جائداد تو مرزا غلام احمد کے پاس اب بھی ہے اور کچھ مرزا سلطان احمد پسر مرزا غلام احمد کے پاس ہے جو اس کو مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوی کے توسل سے ملی ہے۔ یہ جائیداد ا کثر زرعی مثلاً باغ، زمین اور تعلقہ داری چند دیہات ہے اور چونکہ مرزا غلام مرتضی ایک معزز رئیس آدمی تھا ممکن ہے اور میری رائے میں اغلب ہے کہ اس نے بہت سی نقدی اور زیورات بھی چھوڑے ہوں لیکن ایسی جائیداد غیر منقولہ کی نسبت قابل اطمینان شہادت نہیں گذری۔ مرزا غلام احمد ابتدائی ایام میں خود ملازمت کرتا رہا ہے اور اس کا طریق عمل ہمیشہ سے ایسا رہا ہے کہ اس سے امید نہیں ہوسکتی کہ اس نے اپنی آمدنی یا اپنے والد کی جائیداد نقدی وزیورات کو تباہ کیا ہو۔ جو جائیداد غیر منقولہ اس کو باپ سے وراثتاً پہنچی ہے وہ تو اب بھی موجود ہے۔ لیکن جائیداد غیر منقولہ کی نسبت شہادت کافی نہیں مل سکی۔ لیکن بہر حال مرزا غلام احمد کے حالات کے لحاظ سے یہ طمانیت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی اس نے تلف نہیں کی۔ کچھ مدت سے مرزا غلام احمد نے ملا زمت وغیرہ چھوڑ کر اپنے مذہب کی طرف رجوع کیا اور اس امر کی ہمیشہ سے کوشش کرتا رہا کہ وہ ایک مذہبی سرگر وہ مانا جاوے اس نے چند مذہبی کتابیں شائع کیں رسالہ جات لکھے اور اپنے خیالات کا اظہار بذریعہ اشتہارات کیا۔ چنانچہ اس کل کا رروائی کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ عرصہ سے ایک متعدد اشخاص کا گروہ جن کی فهرست ( بحروف انگریزی منسلک ہذا ہے اس کو اپنا سرگروہ ماننے لگ گیا اور بطور ایک علیحدہ فرقہ کے قائم ہو گیا۔ اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا ۳۱۸ آدمی ہیں۔ جن میں