ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 630

ضرورة الامام — Page 511

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۱ ضرورة الامام کشتی غرق ہوتی تھی خدا نے کیوں میری تائید کی اور کیوں اس کو پوری کر کے صد ہا دلوں میں میری محبت ڈال دی۔ یہاں تک کہ بعض سخت دشمنوں نے روتے ہوئے آکر بیعت کی ۔ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوتی تو میاں بٹالوی صاحب خودسوچ لیں کہ کس شد و مد سے وہ اشاعۃ السنہ میں تکذیب کے مضامین لکھتے اور کیا کچھ ان کا دنیا پر اثر ہوتا کیا کوئی سوچ سکتا ہے ﴿۴۰﴾ کہ خدا نے ایسے موقعہ پر کیوں بٹالوی اور اس کے ہم خیال لوگوں کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ کیا قرآن میں نہیں ہے کہ خدا لکھ چکا ہے کہ وہ مومنوں کو غالب کرتا ہے۔ کیا اگر یہ پیشگوئی جو ایک ذرہ بھی شرط اپنے ساتھ نہیں رکھتی تھی اور ایک بھاری مخالف کے حق میں تھی جو مجھ پر دانت پیتا تھا جھوٹی نکلتی تو کیا اس صاف فیصلہ کے بعد میرا کچھ باقی رہ جاتا اور کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اس پیشگوئی کے جھوٹے نکلنے پر شیخ محمد حسین بٹالوی کو ہزار عید کی خوشی ہوتی اور وہ طرح طرح کے ٹھیٹھے اور جنسی کا اپنے کلام کو رنگ دے کر رسالہ کو نکالتا اور کئی جلسے کرتا لیکن اب پیشگوئی کے کچی نکلنے پر اس نے کیا کیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اس نے خدا کے ایک عظیم الشان کام کو ایک رڈی چیز کی طرح پھینک دیا اور اپنے منحوس رسالہ میں یہ اشارہ کیا کہ لیکھرام کا یہی شخص قاتل ہے۔ سو میں کہتا ہوں کہ میں کسی انسانی حربہ کے ساتھ قاتل نہیں ہاں آسمانی حربہ کے ساتھ یعنی دعا کے ساتھ قاتل ہوں اور وہ بھی اس کے الحاج اور درخواست کے بعد ۔ میں نے نہیں چاہا کہ اس پر بددعا کروں مگر اس نے آپ چاہا سومیں اس کا اسی طرح کا قاتل ہوں جس طرح کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خسرو پرویز شاہ ایران کے قاتل تھے۔ غرض لیکھرام کا مقدمہ محمد حسین پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری کر گیا اور ایسا ہی اس کے اور بھائیوں پر۔ پھر بعد اس کے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں خدا کا نشان ظاہر ہوا اور وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو اخیر حکم سے پہلے صد با لوگوں میں پھیل چکی تھی ۔ اس مقدمہ میں شیخ بٹالوی کو وہ ذلت پیش آئی کہ اگر سعادت یاوری کرتی تو بلا توقف تو بہ نصوح کرتا ۔ اس پر خوب کھل گیا کہ خدا نے کس کی تائید کی۔ یاد رہے کہ کلارک کے مقدمہ میں محمد حسین نے عیسائیوں کے ساتھ شامل ہوکر میری تباہی