ضرورة الامام — Page 510
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۰ ضرورة الامام آتھم ہی زندہ رہتا۔ تو میاں محمد حسین بٹالوی اور اس کے ہم جنسوں کے ہاتھ میں جھوٹی تاویلوں کی کچھ گنجائش رہتی مگر آتھم بھی جلد مرکر ان لوگوں کو برباد کر گیا۔ جب تک وہ (۳۹) چپ رہا زندہ رہا اور پھر منہ کھولتے ہی الہامی شرط نے اس کو لے لیا۔ خدا تعالیٰ نے الہامی شرط کے موافق اس کو عمر دی اور جبھی سے کہ اس نے تکذیب شروع کی اسی وقت سے عوارض شدیدہ نے اُس کو ایسا پکڑ لیا کہ بہت جلد اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن چونکہ یہ ذلت بعض نادان مولویوں کو محسوس نہیں ہوئی تھی اور شرطی پیشگوئی کو محض شرارت سے انہوں نے یوں دیکھا کہ گویا اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی اور آتھم کی سراسیمگی اور زبان بند زندگی سے جو پیشگوئی کے ایام میں بدیہی طور پر رہی انہوں نے دیانتداری سے کوئی نتیجہ نہ نکالا اور جو آتھم قسم کیلئے بلایا گیا اور نالش کیلئے اکسایا گیا اور وہ انکار سے کانوں پر ہاتھ رکھتا رہا ان تمام امور سے ان کو کوئی ہدایت نہ ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اپنے نشانوں کو شبہ میں چھوڑنا نہیں چاہتا لیکھرام کی پیشگوئی کو جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی اور جس میں تاریخ اور دن اور صورت موت یعنی کس طریق سے مرے گا سب بیان کیا گیا تھا اتمام حجت کیلئے کمال صفائی سے پورا کیا۔ مگر افسوس کہ سچائی کے مخالفوں نے اس کھلے کھلے خدا تعالیٰ کے نشان سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو لیکھرام کی پیشگوئی میرے ذلیل کرنے کیلئے بڑا عمدہ موقعہ تھا کیونکہ اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی اور اس میں صاف طور پر پیشگوئی کے ساتھ ہی میں نے اپنا اقرار لکھ کر شائع کر دیا تھا کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی تو میں جھوٹا ہوں اور ہر ایک سزا اور ذلت کا سزاوار ہوں۔ سو اگر میں جھوٹا ہوتا تو ایسے موقعہ پر جب کہ قسمیں کھا کر یہ پیشگوئی جو کوئی شرط نہیں رکھتی تھی شائع کی گئی تھی ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو رسوا کرتا اور میرا اور میری جماعت کا نام و نشان مٹا دیتا۔ سوخدا نے ایسا نہ کیا بلکہ اس میں میری عزت ظاہر کی۔ اور جن لوگوں نے نادانی سے آتھم کے متعلق کی پیشگوئی کو نہیں سمجھا تھا ان کے دلوں میں بھی اس پیشگوئی سے روشنی ڈالی۔ کیا یہ سوچنے کا مقام نہیں ہے کہ ایسی پیشگوئی میں جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی اور جس کے خطا جانے سے میری تمام