ضرورة الامام — Page 509
روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانہ میں پوری ہو جانا اس بات پر یعینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے بیچ بولا ہے لیکن یہ کہنا کہ اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔ یہ ایک شکی امر ہے اور کبھی کاذب (۳۸) بھی سچ بولتا ہے۔ ماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہوگا مگر یہ شخص امام موعود نہیں ہے بلکہ وہ اور ہو گا جو بعد اس کے عنقریب ظاہر ہو گا مگر یہ انکا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا۔ مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔ اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں ان کی کتابیں مت دیکھو۔ ان سے ملاپ مت رکھو۔ ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔ لیکن کس قد رعبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔ یہ کس قدر ان کی ذلت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبہ کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔ آسمان کی گواہی دار قطنی وغیرہ کتابوں میں موجود ہے یعنی رمضان میں خسوف کسوف اور زمین کی گواہی صلیبی غلبہ ہے جس کے غلبہ میں مسیح موعود کا آنا ضروری تھا اور جیسا کہ صحیح بخاری میں یہ حدیث موجود ہے۔ یہ دونوں شہادتیں ہماری موید اور ان کی مکذب ہیں۔ پھر لیکھرام کی موت کا جو نشان ظاہر ہوا اس نے بھی ان کو کچھ کم شرمندہ نہیں کیا۔ ایسا ہی مہوتسو جلسہ یعنی قوموں کا مذہبی جلسہ جس میں ہمارا مضمون بطور نشان غالب رہا تھا کچھ کم ندامت کا موجب نہیں ہوا۔ کیونکہ اس میں نہ صرف ہمارا مضمون غالب رہا بلکہ یہ واقعہ پیش از وقت الہام ہو کر بذریعہ اشتہارات شائع کر دیا گیا۔ کاش اگر