ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 630

ضرورة الامام — Page 503

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۳ مولوی عبد الکریم صاحب کا خط ایک دوست کے نائم ضرورة الامام الله الرحمن الرحيم الحمد لوليه والصلوة والسلام على نبيه بسم اما بعد من عبدالكريم الى اخی و حتی نصر الله خان سلام عليكم و رحمة الله و بركاته آج میرے دل میں پھر تحریک ہوئی ہے کہ کچھ درد دل کی کہانی آپ کو سناؤں ممکن ہے کہ آپ بھی میرے ہمدرد بن جائیں۔ اتنی مدت کے بعد یہ تحریک خالی از مصالح نہ ہوگی۔ محرک قلوب اپنے بندوں کو عبث کام کی ترغیب نہیں دیا کرتا۔ چوہدری صاحب ! میں بھی ابن آدم ہوں ضعیف عورت کے پیٹ سے نکلا ہوں ضرور ہے انسانی کمزوری۔ تعلقات کی کششیں اور رقت مجھ میں بھی ہو۔ بطن عورت سے نکالا ہوا اگر اور عوارض اسے چمٹ نہ جائیں تو سنگدل نہیں ہو سکتا۔ میری ماں بڑی رقیق قلب والی بڑھیا دائم المرض موجود ہے۔ میرا باپ بھی ہے (اللهم عافه و واله و وفقه للحسنی) میرے عزیز اور نہایت ہی عزیز بھائی بھی ہیں۔ اور اور تعلقات بھی ہیں تو پھر کیا میں پتھر کا کلیجہ رکھتا ہوں جو مہینوں گذر گئے یہاں دھونی رمائے بیٹھا ہوں یا کیا میں سودائی ہوں اور میرے حواس میں خلل ہے۔ یا کیا میں مقلد کور باطن اور علوم حقہ سے نابلد محض ہوں یا کیا میں فاسقانہ زندگی بسر کرنے میں اپنے کنبہ، اپنے محلہ اور اپنے شہر میں مشہور ہوں۔ یا کیا میں مفلس نادار پیٹ کی غرض سے نت نئے بہروپ بدلنے والا قلاش ہوں۔ یـعـلـم الله والملائكة يشهدون کہ میں بحمد اللہ ان سب معائب سے بَری ہوں۔ وَلَا أُزَكَّى نَفْسِي وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَّشَاءُ تو پھر کس بات نے مجھ میں ایسی استقامت پیدا کر رکھی ہے جو ان سب تعلقات پر غالب آ گئی ہے۔ بہت صاف بات اور ایک ہی لفظ میں ختم ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے امام زمان کی شناخت ۔ اللہ اللہ یہ ہ اس خط پر اتفاق میری نظر پڑی جس کو اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنے ایک دوست کی طرف لکھا تھا سو میں نے ایک مناسبت کی وجہ سے جو اس رسالہ کے مضمون سے اس کو ہے چھاپ دیا۔ منہ