ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 630

ضرورة الامام — Page 502

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۲ ضرورة الامام دست بیعت دینے کو طیار ہوں ۔ مگر خدا کے وعدوں میں تبدیل نہیں ۔ اُس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آج سے قریباً بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام درج ہے: الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر آباؤهم ولتستبين سبيل المجرمين قل انى امرت و انا اول المومنين۔ اس الہام کے رو سے خدا نے مجھے علوم قرآنی عطا کئے ہیں۔ اور میرا نام اول المومنین رکھا۔ اور مجھے سمندر کی طرح معارف اور حقائق سے بھر دیا ہے۔ اور مجھے بار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الہی اور کوئی محبت الہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں۔ پس بخدا میں گشتی کے میدان میں کھڑا ہوں جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا عنقریب وہ مرنے کے بعد شرمندہ ہوگا اور اب حجتہ اللہ کے نیچے ہے۔اے عزیز کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا بغیر لیاقت کے نہیں ہوسکتا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک انگریز حاکم کے پاس ایک خاندانی شخص في شخص پیش کیا گیا کہ اس کو تحصیلدار بنا دیا جائے۔ اور جس کو پیش کیا وہ محض جاہل تھا اردو بھی نہیں آتی تھی۔ اس انگریز نے کہا کہ اگر میں اس کو تحصیلدار بنادوں تو اس کی جگہ مقدمات کون فیصلہ کرے گا۔ میں اس کو بجز پانچ روپیہ کے مذکوری کے اور کوئی نوکری دے نہیں سکتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے۔ اللہ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ کیا جس کے پاس ہزاروں دشمن دوست سوالات اور اعتراضات لے کر آتے ہیں اور نیابت نبوت اس کے سپرد ہوتی ہے۔ اس کی یہی شان چاہئے کہ صرف چندالہامی فقرے اس کی بغل میں ہوں اور وہ بھی بے ثبوت۔ کیا قوم اور مخالف قوم اس سے تسلی پکڑ سکتے ہیں۔ اب میں اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور اگر اس میں کوئی گراں لفظ ہو تو ہر ایک صاحب اور نیز اپنے دوست ہم صاحب سے معافی مانگتا ہوں۔ کیونکہ میں نے سراسر نیک نیتی سے چند سطریں لکھی ہیں اور میں اس عزیز دوست سے بدل و جان محبت رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کے ساتھ ہو۔ فقط الانعام: ۱۲۵ خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور