ضرورة الامام — Page 501
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۱ ضرورة الامام اور کچے کوٹھوں میں تکلیف سے بسر کرتے ہیں کیا وہ بغیر کسی بات کے دیکھنے کے دانستہ اس تکلیف کو گوارا کئے ہوئے ہیں؟ ہمارے عزیز اور دوست ملہم صاحب یاد رکھیں کہ وہ ان خیالات میں سخت درجہ کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ اپنی الہامی طاقت - سے پہلے مولوی صاحب موصوف کو قرآن دانی کا نمونہ دکھلا دیں اور اس خارق عادت کی چمکار سے نوردین جیسے ۳۰ عاشق قرآن سے بیعت لیں تو پھر میں اور میری تمام جماعت آپ پر قربان ہے۔ کیا چند ناشناختہ الہامی فقروں کیساتھ کہ وہ بھی اکثر صحیح نہیں۔ یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے تئیں امام الزمان خیال کرلے ۔ عزیز من امام الزمان کے لئے بہت سی شرائط ہیں تبھی تو وہ ایک جہان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ہزار نکته باریک تر زمو اینجاست نه هر که سر بترا شد قلندری داند میرے عزیز بلہم اس دھو کہ میں نہ رہیں کہ فقرات الہامی اکثر ان پر وارد ہوتے ہیں میں سیچ سچ کہتا ہوں کہ میری جماعت میں اس قسم کے ملہم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے۔ سید امیر علی شاہ ہر ایک ہفتہ کے بعد الہامات کا ایک ورق بھیجتے ہیں اور بعض عورتیں میری مصدق ہیں جنہوں نے ایک حرف عربی کا نہیں پڑھا اور عربی میں الہام ہوتا ہے۔ میں نہایت تعجب میں ہوں کہ آپ کی نسبت اس کے الہامات میں غلطی کم ہوتی ہے۔ ۲۸ ستمبر ۱۸۹۸ءکو ان کے چند الہامات مجھ کو بذریعہ خط ان کے برادر حقیقی فتح محمد بزدار کے ملے۔ ایسا ہی کئی ملہم ہماری جماعت میں موجود ہیں۔ ایک لاہور میں ہی تشریف رکھتے ہیں۔ مگر کیا ایسے الہامات سے کوئی شخص امام الزمان کی بیعت سے مستغنی ہو سکتا ہے۔ اور مجھے تو کسی کی بیعت سے عذر نہیں ۔ مگر بیعت سے غرض افاضہ علوم روحانیہ اور تقویت ایمان ہے۔ اب فرمائیے کہ آپ بیعت میں کو نسے علوم سکھلائیں گے اور کون سے قرآنی حقائق بیان فرمائیں گے۔ آپ آئیے اور امامت کا جو ہر دکھلائیے ہم سب بیعت کرتے ہیں ۔ حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ پر کوئی مجھ کو تو سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا میں نقارہ کی آواز سے کہہ رہا ہوں کہ جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ سب بطور نشان امامت ہے جو اس نشان امامت کو دکھلائے اور ثابت کرے کہ وہ فضائل میں مجھ سے بڑھ کر ہے۔ میں اس کو شخص