ضرورة الامام — Page 494
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۴ ضرورة الامام کیونکہ وہ ہمارے دینی مقاصد کے خارج نہیں ہیں بلکہ ہم کو ان کے وجود سے بہت آرام ملا ہے اور ہم خیانت کریں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ انگریزوں نے ہمارے دین کو ایک قسم کی وہ مدد دی ہے کہ جو ہندوستان کے اسلامی بادشاہوں کو بھی میسر نہیں آ سکی کیونکہ ہندوستان کے بعض اسلامی بادشاہوں نے اپنی کوتاہ ہمتی سے صوبہ پنجاب کو چھوڑ دیا تھا۔ اور اُن کی اس غفلت سے سکھوں کی متفرق حکومتوں کے وقت میں ہم پر اور ہمارے دین پر وہ مصیبتیں آئیں کہ مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اور بلند آواز سے اذان دینا بھی مشکل ہو گیا تھا اور پنجاب میں دین اسلام مر چکا تھا۔ پھر انگریز آئے اور انگریز کیا ہمارے نیک طالع پھر ہماری طرف واپس ہوئے اور انہوں نے دین اسلام کی حمایت کی اور ہمارے مذہبی فرائض میں ہمیں پوری آزادی بخشی اور ہماری مسجد میں واگذار کی گئیں ۔ اور پھر مدت دراز کے بعد پنجاب میں شعار اسلام دکھائی دینے لگا۔ پس کیا یہ احسان یا در کھنے کے لائق نہیں؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بعض سست ہمت اسلامی بادشاہوں نے تو اپنی غفلتوں سے کفرستان میں ہمیں دھکہ دیا تھا اور انگریز ہاتھ پکڑ کر پھر ہمیں باہر نکال لائے ۔ پس انگریزوں کے برخلاف بغاوت کی کھچڑی پکاتے رہنا خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کرنا ہے۔ پھر اصل کلام کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔ یہی تاکید روحانی تمدن کے لئے بھی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم لے پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خدا تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ لہذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر نعمت روحانی کی بارش ہوئی ہے ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔ سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ تم امام الزمان کے ساتھ ہو جاؤ۔ الفاتحة: ٧،٦