ضرورة الامام — Page 490
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۰ ضرورة الامام نہایت ہی حلیم ہے جس کی طرف توجہ کرتا ہے اس سے مکالمت کرتا ہے اور سوالات کا جواب دیتا ہے اور ایک ہی مکان اور ایک ہی وقت میں انسان اپنے معروضات کا جواب پا سکتا ہے گواس مکالمہ پر کبھی فترت کا زمانہ بھی آ جاتا ہے۔ ا (۸) بچے الہام کا انسان کبھی بزدل نہیں ہوتا اور کسی مدعی الہام کے مقابلہ سے اگر چہ وہ کیسا ہی مخالف ہو نہیں ڈرتا۔ جانتا ہے کہ میرے ساتھ خدا ہے اور وہ اس کو ذلت کے ساتھ شکست دے گا۔ (۹) سچا الہام اکثر علوم اور معارف کے جاننے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا اپنے ملہم کو بے علم اور جاہل رکھنا نہیں چاہتا۔ (۱۰) بچے الہام کے ساتھ اور بھی بہت سی برکتیں ہوتی ہیں اور کلیم اللہ کو غیب سے عزت دی جاتی ہے اور رعب عطا کیا جاتا ہے۔ آج کل کا ایک ایسا ناقص زمانہ ہے کہ اکثر فلسفی طبع اور نیچری اور بر ہمواس الہام سے منکر ہیں۔ اسی انکار میں کئی اس دنیا سے گذر بھی گئے۔ لیکن اصل امر یہ ہے کہ سچائی سچائی ہے گو تمام جہان اس کا انکار کرے اور جھوٹ جھوٹ ہے گو تمام دنیا اس کی مصدق ہو ۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے اور اس کو مدبر عالم خیال کرتے ہیں اور اس کو بصیر اور سمیع اور علیم جانتے ہیں۔ ان کی یہ حماقت ہے کہ اس قدرا قراروں کے بعد پھر خدا تعالیٰ کے کلام سے منکر رہیں۔ کیا جو دیکھتا ہے جانتا ہے اور بغیر ذریعہ جسمانی اسباب کے اس کا علم ذرہ ذرہ پر محیط ہے وہ بول نہیں سکتا۔ اور یہ کہنا بھی غلطی ہے کہ اس کی قوت گویائی پہلے تو تھی اور اب بند ہوگئی ۔ گویا اس کی صفت کلام آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ لیکن ایسا کہنا بڑی نومیدی دیتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کی صفتیں بھی کسی زمانہ تک چل کر پھر مفقود ہو جاتی ہیں اور کچھ بھی ان کا نشان باقی نہیں رہتا تو پھر باقی ماندہ صفتوں میں بھی جائے اندیشہ ہے۔ افسوس ایسی عقلوں اور ایسے اعتقادوں پر کہ جو خدا تعالی کی تمام صفات مان کر پھر چھری ہاتھ میں لے بیٹھتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک ضروری حصہ کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔ افسوس کہ آریوں نے تو وید تک ہی خدا تعالیٰ کے کلام پر مہر لگا دی تھی مگر