ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 630

ضرورة الامام — Page 485

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۵ ضرورة الامام شیطان کہا ہے۔ پس یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ کوئی یہودی شیطان ٹھٹھے اور ہنسی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس آیا ہوگا اور آپ نے جیسا کہ پطرس کا نام شیطان رکھا اس کو بھی شیطان کہ دیا ہوگا اور یہودیوں میں اس قسم کی شرارتیں بھی تھیں ۔ اور ایسے سوال کرنا یہودیوں کا خاصہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ سب قصہ ہی جھوٹ ہو جو عمداً یا دھوکہ کھانے سے لکھ دیا ہو۔ کیونکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کی انجیلیں نہیں ہیں اور نہ ان کی تصدیق شدہ ہیں بلکہ حواریوں نے یا کسی اور نے اپنے خیال اور عقل کے موافق لکھا ہے۔ اسی وجہ سے ان میں باہمی اختلاف بھی ہے۔ لہذا کہہ سکتے ہیں کہ ان خیالات میں لکھنے والوں سے غلطی ہوگئی۔ جیسا کہ یہ غلطی ہوئی کہ انجیل نویسوں میں سے بعض نے گمان کیا کہ گویا (۱۵) حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں ۔ ایسی غلطیاں حواریوں کی سرشت میں تھیں کیونکہ انجیل ہمیں خبر دیتی ہے کہ ان کی عقل باریک نہ تھی ۔ ان کے حالات ناقصہ کی خود حضرت مسیح گواہی دیتے ہیں کہ وہ فہم اور درایت اور عملی قوت میں بھی کمزور تھے۔ بہر حال یہ سچ ہے کہ پاکوں کے دل میں شیطانی خیال مستحکم نہیں ہوسکتا۔ اور اگر کوئی تیرتا ہوا سرسری وسوسہ ان کے دل کے نزدیک آ بھی جائے تو جلد تر وہ شیطانی خیال دور اور دفع کیا جاتا ہے اور ان کے پاک دامن پر کوئی داغ نہیں لگتا قرآن شریف میں اس قسم کے وسوسہ کو جو ایک کم رنگ اور نا پختہ خیال سے مشابہ ہوتا ہے طائف کے نام سے موسوم کیا ہے اور لغت عرب میں اس کا نام طائف اور طوف اور طیف اور طیف بھی ہے ۔ اور اس وسوسہ کا دل سے نہایت ہی کم تعلق ہوتا ہے گویا نہیں ہوتا۔ یا یوں کہو کہ جیسا کہ دور سے کسی درخت کا سایہ بہت ہی خفیف سا پڑتا ہے ایسا ہی یہ وسوسہ ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دل میں اسی قسم کے خفیف وسوسہ کے ڈالنے کا ارادہ کیا ہو ۔ اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو ۔ اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا عیسائیوں کی بہت سی انجیلوں میں سے ایک انجیل اب تک ان کے پاس وہ بھی ہے جس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح مصلوب نہیں ہوئے ۔ یہ بیان صحیح ہے کیونکہ مرہم عیسی اس کی تصدیق کرتی ہے جس کا ذکر صد ہا طبیبوں نے کیا ہے ۔ منہ