ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 630

ضرورة الامام — Page 472

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۷۲ ضرورة الامام ضَرُورَةُ الامام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد واضح ہو کہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کرے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔ یہ حدیث ایک متقی کے دل کو امام الوقت کا طالب بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے کیونکہ جاہلیت کی موت ایک ایسی جامع شقاوت ہے جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں ۔ سو بموجب اس نبوی وصیت کے ضروری ہوا کہ ہر ایک حق کا طالب امام صادق کی تلاش میں لگا ر ہے۔ پی سیج نہیں ہے کہ ہر ایک شخص جس کو کوئی خواب سچی آدے یا الہام کا دروازہ اس پر کھلا ہو وہ اس نام سے موسوم ہو سکتا ہے بلکہ امام کی حقیقت کوئی اور امر جامع اور حالت کاملہ تامہ ہے جس کی وجہ سے آسمان پر اس کا نام امام ہے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ صرف تقویٰ اور طہارت کی وجہ سے کوئی شخص امام نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا لے پس اگر ہر ایک ☆ حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا اسود بن عامر انا أبوبكر عن عاصم عن أبي صالح عن معاوية۔ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مات بغير امام مات ميتة جاهلية ۔ صفحه نمبر ۹۶ جلد نمبر ۴ مسند احمد و اخرجه احمد والترمذی و ابن خزيمة و ابن حبان و صححه من حديث الحارث الاشعرى بلفظ من مات وليس عليه امام جماعة فان موتته موتة جاهلية۔ ورواه الحاكم من حديث بن عمرو من حديث معاوية و رواه البزار من حديث ابن عباس۔ الفرقان : ۷۵ مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۹۶ مطبوعہ بیروت ۔ (ناشر)