ضرورة الامام — Page 473
روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام منتقی امام ہے تو پھر تمام مومن متقی امام ہی ہوئے اور یہ امر منشاء آیت کے برخلاف ہے اور ایسا ہی بموجب نص قرآن کریم کے ہر ایک ملہم اور صاحب رو یا صادقہ امام نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ قرآن کریم میں عام مومنین کے لئے یہ بشارت ہے کہ لَهُمُ البشرى في الحيوةِ الدُّنْيَا یعنی دنیا کی زندگی میں مومنین کو یہ نعمت ملے گی کہ اکثر کچی خوا ہیں انہیں آیا کریں گی یا بچے الہام ان کو ہوا کریں گے۔ پھر قرآن شریف میں ایک دوسرے مقام میں ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَيْكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا لے یعنی جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے ان کو بشارت کے الہامات سناتے رہتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے رہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو بذریعہ الہام تسلی دی گئی ۔ لیکن قرآن ظاہر کر رہا ہے کہ اس قسم کے الہامات یا خواہیں عام مومنوں کے لئے ایک روحانی نعمت ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ہوں اور ان الہامات کے پانے سے وہ لوگ امام وقت سے مستغنی نہیں ہو سکتے اور اکثر یہ الہامات ان کے ذاتیات کے متعلق ہوتے ہیں اور علوم کا افاضہ ان کے ذریعہ سے نہیں ہوتا اور نہ کسی عظیم الشان تحدی کے لائق ہوتے ہیں اور بہت سے بھروسے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض وقت ٹھوکر کھانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔ اور جب تک امام کی دستگیری افاضہ علوم نہ کرے تب تک ہرگز ہرگز خطرات سے امن نہیں ہوتا۔ اس امر کی شہادت صدر اسلام میں ہی موجود ہے۔ کیونکہ ایک شخص جو قرآن شریف کا کاتب تھا اس کو بسا اوقات نور نبوت کے قرب کی وجہ سے قرآنی آیت کا اس وقت میں الہام ہو جاتا تھا جبکہ امام یعنی نبی علیہ السلام وہ آیت لکھوانا چاہتے تھے۔ ایک دن اس نے خیال کیا کہ مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق ہے۔ مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔ اس خیال سے وہ ہلاک کیا گیا۔ اور لکھا ہے کہ قبر نے بھی اس کو باہر پھینک دیا۔ جیسا کہ بلعم ہلاک کیا گیا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھا۔ اور امامت حقہ جو آسمان کے خدا نے زمین پر قائم کی تھی اس کا شریک بنا نہ چاہا۔ بلکہ ادنی چاکر یونس ۶۵ حم السجدة: ٣١