تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 566

تحفة الندوہ — Page 103

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۰۳ تحفة الند کوئی صورت ادائے قرضہ کی نظر نہ آتی تھی۔ جب عیسائی کہا کرتے تھے کہ رہنا یسوع مسیح آسمان پر زندہ مع جسم چڑھ گیا بڑی طاقت دکھلائی خدا جو تھا مگر تمہارا نبی تو ہجرت کرنے کے بعد مدینہ تک بھی پرواز کر کے نہ جاسکا غار ثور میں ہی تین دن تک چھپا رہا آخر بڑی مشکل سے مدینہ تک پہنچا اور پھر بھی عمر نے وفا نہ کی دس برس کے بعد فوت ہو گیا اور اب وہ قبر میں اور زیر زمین ہے مگر یسوع مسیح زندہ آسمان پر ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہی دوبارہ آسمان سے اتر کر دنیا کا انصاف کرے گا۔ ہر ایک جو اس کو خدا نہیں جانتا وہ پکڑا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس کا جواب مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں آتا نہایت شرمندہ اور ذلیل ہوتے تھے اب یسوع مسیح کی خوب خدائی ظاہر ہوئی۔ آسمان پر چڑھنے کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اوّل تو ہزار نسخہ سے زیادہ ایسی طبی کتابیں جن کو پُرانے زمانہ میں رومیوں یونانیوں مجوسیوں عیسائیوں اور سب سے بعد مسلمانوں نے بھی ان کا ترجمہ کیا تھا پیدا ہو گئیں جن میں ایک نسخہ مرہم عیسی کا لکھا ہے اور ان کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسی کے لئے یعنی اُن کے صلیبی زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ ازاں بعد کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی پیدا ہوگئی۔ پھر اس کے بعد عربی اور فارسی میں پرانی کتابیں پیدا ہو گئیں جو بعض ان میں سے ہزار برس کی تصنیف ہیں اور حضرت عیسی کی وفات کی گواہی دیتی اور قبر اُن کی کشمیر میں بتلاتی ہیں اور پھر سب کے بعد جو آج ہمیں خبر ملی یہ تو ایک ایسی خبر ہے کہ گویا آج اس نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن چڑھا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حال میں بمقام یروشلم پطرس حواری کا د تخطی ایک کاغذ پرانی عبرانی میں لکھا ہوا دستیاب ہوا ہے جس کو کتاب کشتی نوح کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناً پچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہو گئے تھے اور وہ کا غذ ایک عیسائی کمپنی نے اڑھائی لاکھ روپیہ دے کر خرید لیا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریر ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر ثبوتوں کے جمع ہونے کے بعد جوز بردست شہادتیں ہیں پھر اس بیہودہ اعتقاد سے جو عیسی زندہ ہے باز نہ آنا ایک دیوانگی ہے۔ امور محسوسہ مشہودہ سے انکار نہیں ہو سکتا سو مسلمانوں تمہیں مبارک ہو آج تمہارے لئے عید کا دن ہے اُن پہلے جھوٹے عقائد کو دفع کرو اور اب قرآن کے مطابق اپنا عقیدہ بنالو۔ مکرر یہ کہ یہ آخری شہادت