تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 566

تحفة الندوہ — Page 102

روحانی خزائن جلد ۱۹ تحفہ الندوہ کے قریب تو طاعون کے ذریعہ سے ہی میری جماعت میں داخل ہوئے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تھوڑے دنوں میں میری جماعت سے زمین بھر جائے گی ۔ اے حافظ صاحب ! کیا آپ وہی حافظ صاحب نہیں جنہوں نے مجھ کو بلا واسطہ دیگرے کہا تھا کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کہتے تھے کہ قادیان پر ایک نور نازل ہوا جس سے میری اولا دمحروم رہ گئی افسوس آپ نے قبر میں عبداللہ صاحب کو دکھ دیا کیا ان کے قول کے مخالف یہ طریق خلاف آپ کو لازم تھا۔ پھر کیا میاں محمد یعقوب آپ کے حقیقی بھائی نہیں ہیں ۔ اُن سے بھی تو ذرا پوچھ لیا ہوتا وہ تو قریباً دس برس سے دو ہائی دے رہے ہیں کہ ان کو بھی مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے قادیان کا ہی حوالہ دیا تھا کہ نور قادیان میں ہی نازل ہوگا اور وہ غلام احمد ہے اور انہوں نے خبر دی ہے کہ وہ اب تک اس گواہی پر قائم ہیں اور اُن کا خط موجود ۔ پھر آپ حافظ کہلا کر حقیقی حافظ پر تو کل نہیں رکھتے قوم کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں۔ میں سوچ میں ہوں کہ عبداللہ صاحب کے یہ کیسے مکاشفات تھے ۔ جواُن کے ساتھ ہی خاک میں مل گئے ۔ آپ جیسے اُن کے بڑے خلیفہ نے بھی اُن کا قدر نہ کیا۔ والسلام على من اتبع الهدی۔ المؤلف مرزا غلام احمد قادیانی ۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء تمام مسلمانوں اور تمام سچائی کے بھوکوں اور پیاسوں کے لئے ایک بڑی خوشخبری حضرت عیسی علیہ السلام جن کی خارق عادت زندگی اور خلاف نصوص قرآنیہ مع جسم آسمان پر چلے جانا اور باوجود وفات یافتہ نہ ہونے کے پھر وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں جو ایک رنگ سے بہشت میں داخل ہو چکے داخل ہو جانا یہ تمام ایسی باتیں تھیں کہ در حقیقت بچے مذہب کے لئے ایک داغ تھا اور نیز مدت دراز سے مغربی مخلوق پرستوں کا موحدین اہل اسلام کے ذمہ ایک قرضہ چلا آتا تھا اور نادان مسلمانوں نے بھی اس قرضہ کا اقرار کر کے اپنے ذمہ ایک بڑی سودی رقم عیسائیوں کی بڑھادی تھی جس کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس ملک ہند میں ارتداد کا جامہ پہن کر عیسائیوں کے ہاتھ میں گرو پڑ گئے تھے اور