تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxxviii

حمامۃ البشریٰ ایک عرب صاحبِ علم و فضل محمد بن احمد مکّی شعب عامر مکّہ معظمہ کے رہنے والے تھے وہ ہندوستان کی سیاحت کر رہے تھے جب انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی خبر پہنچی وہ قادیان تشریف لائے اور حضورؑ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور کچھ عرصہ قادیان میں آپ کی صحبت میں رہ کر مکّہ معظمہ واپس پہنچے تو آپ نے ۲۰؍ محرم ۱۳۱۱ھ مطابق ۴؍ اگست ۱۸۹۳ء حضورؑ کی طرف ایک خط لکھا۔جس میں اپنے بخیریت مکہ معظمہ پہنچنے اور مختلف لوگوں سے حضورؑ کا ذکر کرنے اور ان کے مختلف تاثرات کے ذکر کے بعد یہ خوشخبری لکھی کہ مَیں نے اپنے دوست علی طائع کو جو شعبِ عامر کے رئیس اور تاجر ہیں حضورؑ کے دعویٰ سے مفصّل خبر دی تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں حضورؑ کی خدمت میں عرض کروں کہ حضورؑ اپنی کتابیں اُن کے پتہ پر بھیجیں اور وہ انہیں شرفاء اور علماء مکّہ مکرمہ میں تقسیم کریں گے۔اِس خط کے ملنے پر حضورؑ نے تبلیغ حق کا ایک غیبی سامان سمجھتے ہوئے رسالہ ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ عربی زبان میں تصنیف فرمایا یہ رسالہ حضورؑ نے ۱۸۹۳ء میں رقم فرمایا۔لیکن اس کی اشاعت فروری ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔اِس رسالہ میں آپ نے اپنے دعوی ئ مسیحیت اور اس کے دلائل خوب وضاحت سے لکھے اور خروجِ دجّال اور وفاتِ مسیحؑ اور نزولِ مسیح اور ان سے متعلّقہ امور پر سیر کن بحث کی اور مکفرین علماء کی طرف سے آپ کے عقائد اور آپ کے دعویٰ پر جو اعتراضات کئے جاتے تھے ان کے تفصیلی جوابات دیئے۔الغرض یہ کتاب عربی ممالک کے لئے ایک نہایت مفید کتاب ثابت ہوئی۔خاکسار جلال الدین شمس