تحفہٴ بغداد — Page xxxv
کرامات الصادقین مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ایک مضمون کا جو انہوں نے ۹؍ جنوری ۱۸۹۳ء کو لکھ کر اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد ۱۵ نمبر ۱ بابت ماہ جنوری ۱۸۹۳ء میں شائع کیا تھا۔۳۰؍ مارچ ۱۸۹۳ء کو جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ ’’میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کودن اور نادان اور جاہل ہے۔اور علمِ قرآن سے بالکل بے خبر ہے۔اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں کیونکہ کذّاب اور دجّال ہے اور ساتھ اسکے ان کو اپنے کمالِ علم اور فضل کا بھی دعویٰ ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۰۳) اِس اشتہار میں آپ نے صدق و کذب جانچنے کے لئے یہ تجویز تحریر فرمائی کہ ایک مجلس میں بطور قرعہ اندازی ایک سورۃ نکال کر اس کی فصیح زبان عربی اور مقفّٰی عبارت میں تفسیر لکھی جائے اور اس تفسیر میں ایسے حقائق اور معارف لکھے جائیں جو دوسری کتابوں میں نہ پائے جاتے ہوں۔نیز اس کے آخر میں سو۱۰۰ شعر بلیغ اور فصیح عربی میں در نعت و مدح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بطور قصیدہ درج ہوں۔اور فریقین کو اس کام کے لئے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔پھر جلسۂ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اشعار سُنا دیں۔اگر شیخ محمد حسین اس مقابلہ میں غالب رہے یا اس عاجز کے برابر رہے تو اُسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا۔لیکن اگر یہ عاجز غالب ہوا تو پھر میاں محمد حسین اُسی مجلس میں کھڑے ہو کر اِ ن الفاظ سے توبہ کرے۔نیز آپ نے فرمایا کہ’’ شیخ بٹالوی کو اختیار ہو گا کہ میاں شیخ الکل اور دوسرے تمام متکبّر ملّاؤں کو ساتھ ملا لے‘‘۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۰۳) ’’ اگر اس کا جواب یکم اپریل سے دو ہفتہ کے اندر نہ آیا تو آپ کی گریز سمجھی جائے گی۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۶۰۴۔حاشیہ) اِس کے جواب میں بٹالوی صاحب نے اشاعۃ السنۃ جلد ۱۵ نمبر ۸ صفحہ ۱۹۰۔۱۹۱ میں یہ لکھ کر کہ عربی