تحفہٴ بغداد — Page xxxiv
لئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔‘‘ ایسی تجویز ہے جس سے معترضین کے تمام اعتراضات لغو اور باطل ہو جاتے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فی الواقع عربی زبان کا علم نہ رکھتے اور دوسروں سے لکھواتے اور اپنے نام پر شائع کرتے تھے تو آپ مجلس میں بیٹھ کر فصیح و بلیغ عربی زبان میں نئے حقائق و معارف پر مشتمل تفسیر ہرگز نہ لکھ سکتے۔اور اس طرح مخالف علماء کے اعتراضوں کی صداقت بآسانی لوگوں پر واضح ہو جاتی لیکن اُن کے اِس طرف رُخ نہ کرنے اور ہر دفعہ عذر اور بہانے بنا کر دعوتِ مقابلہ کو قبول نہ کرنے سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اُن کے تمام اعتراضات لغو اور باطل تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اﷲ تعالیٰ نے عربی زبان کا علم عطا فرمایا تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ مخالفین کو آپ کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔تحفۂ بغداد یہ رسالہ آپ نے محرم ۱۳۱۱ھ مطابق جولائی ۱۸۹۳ء میں تالیف فرمایا۔وجہ تصنیف یہ ہوئی کہ ایک شخص سید عبدالرزاق قادری بغدادی نے حیدر آباد دکن سے ایک اشتہار اور ایک خط عربی زبان میں آپ کو بھیجا جس میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کو خلافِ شریعت اور ایسے مدعی کو واجب القتل اور ’’التبلیغ‘‘ کو معارضِ قرآن قرار دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کے اشتہار اور خط کو نیک نیتی پر محمول کر کے محبت آمیز طریقہ سے جواب دیا اور اپنے دعویٰ ماموریت اور وفات مسیح ناصریؑ کا ثبوت اور اُمّت محمدؐیہ میں مکالماتِ الٰہیہ اور سِلسلۂ مجددین کے جاری رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مکتوب کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات کی اصلاح کریں اور اگر کسی بات کی حقیقت آپ پر ظاہر نہ ہو تو اس کے متعلق مجھ سے دریافت کریں۔نیز لکھا کہ مولویوں کے فتاویٰ تکفیر سے دھوکا نہ کھائیں بلکہ میرے پاس آئیں اور بچشمِ خود حالات دیکھیں تاحقیقت کو پا سکیں اور اگر آپ لمبے سفر کی تکلیف برداشت نہ کر سکیں تو اﷲ تعالیٰ سے میرے بارہ میں ایک ہفتہ تک استخارہ کریں۔استخارہ کا طریق بتا کر فرمایا کہ استخارہ شروع کرنے کے وقت سے مجھے بھی اطلاع دیں تا مَیں بھی اس وقت دُعا کروں اور رسالہ کے آخر میں دو ۲ قصیدے بھی تحریر فرمائے۔