تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxx of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxx

اِسی طرح حضور علیہ السلام مخالفین کے ان اعتراضوں کا ذکر کر کے کہ ان کتابوں کی عربی زبان فصیح نہیں اور یہ کہ وہ عرب اور دوسرے ادیبوں کی لکھی ہوئی ہیں اور ایک عرب گھرمیں پوشیدہ رکھا ہوا ہے وہی عرب صبح شام لکھ کر دیتا ہے فرماتے ہیں:۔؂ انظر الٰی اقوالھم و تناقض سلب العناد اصابۃ ا لْاٰرءٖ طورا الی عرب عزوہ و تارۃ قالوا کلام فاسد الاملاءٖ ھٰذا من الرحمٰن یاحزب العداء لافعل شامی ولا رفقائی (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۲۷۵) یعنی ان باتوں کو دیکھو اور ان کے تناقض پر غور کرو۔عناد سے سچی اور اصابت رائے اِ ن سے سلب ہو گئی ہے۔کبھی تو میرے کلام کو عرب کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ کلام اچھا نہیں اور غیر فصیح اور غلطیوں سے پُر ہے۔سو اے گروہ دشمنان! سنو!! یہ رحمن خدا کی توفیق و تائید سے لکھا گیا ہے۔نہ یہ کسی شامی عرب کا کام ہے اور نہ میرے رفیقوں کا۔سرقہ کے اعتراض کا جواب پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور مولوی محمد حسن صاحب فیضی وغیرہ نے یہ اعتراض بھی کیا کہ آپ نے مقامات حریری اور مقامات ہمدانی وغیرہ کتب سے فقرے سرقہ کر کے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں:۔ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور خدا تعالیٰ کی تائید سے اِس انشا پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف و حقائقِ قرآنی کو اِس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں۔اور وہ بلاغت جو ایک بے ہودہ اور لغو طور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اُس کو کلامِ الٰہی کا خادم بنایا جائے اور جبکہ ایسا دعویٰ ہے تو محض انکار سے کیا ہو سکتا ہے جب تک کہ اس کی مثل پیش نہ کریں۔۔۔۔یوں تو بعض شریر اور بدذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اِس کے مضامین توریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں جو بالفاظہا سرقہ کے طور پر قرآن شریف میں داخل کی