تحفہٴ بغداد — Page xxviii
متاثر ہوئے کہ آخر کار قادیان آ کر آپ کی بیعت کر لی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۱۸۹۷ء میں ’’ضمیمہ انجام آتھم‘‘ مطبوعہ ۱۸۹۷ء میں اپنے مخلص ۳۱۳ صحابہؓ کی فہرست میں نمبر ۵۵ پر اُن کا نام لکھا ہے۔۱ غور کرو۔اگر بٹالوی صاحب کا مذکورہ بالا بیان درست ہے تو کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں رہ سکتے تھے؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے شخص کو عربی ممالک کے لئے بطور مبلغ تجویز فرما سکتے تھے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس سے متعلق فرماتے ہیں کہ مَیں نے اُسے ’’اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے۔سو مَیں نے مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقلی اس کو حاصل ہے اور آدمی نیک بخت ہے جس نے جذباتِ نفس پر لات ماری اور اُن کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔پھر خدا نے اُس کو کچھ حصّہ میری شناخت کا عطا کیا سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ہماری معرفت کی باتوں سے ایک عجیب دروازہ اُس پر کھول دیا اور اُس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس رکھا اور وہ کتاب اُس کی وسعتِ معلومات پر دلیل واضح ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجّت ہے اور وہ کتاب ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے۔‘‘ (نورالحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد۸ ، صفحہ ۲۲۔ترجمہ از عربی عبارت) اِسی طرح اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’پھر ان علماء کے اعتراضات اور شبہات میں سے جو انہوں نے جاہلوں میں پھیلا رکھے ہیں ایک یہ ہے ’’ان ھٰذا الرجل لایعلم شیءًا من العربیۃ‘‘ کہ یہ شخص عربی کا ذرہ علم نہیں رکھتا بلکہ وہ تو فارسی زبان سے بھی کوئی حصہ نہیں دیا گیا اور اپنے متعلق کہتے ہیں کہ ہم متجر علماء ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے جو عمدہ ، رنگین، دلکش عبارات اور اچھوتے قصائد عربی زبان میں لکھے ہیں وہ اس کے اپنے نہیں ’’بل الفھا رجل من الشامیین و أخذ علیہ کثیر من المال کاالمستأجرین فلیکتب الاٰن بعدذھابہ ان کان من الصادقین‘‘ بلکہ ایک شامی عرب نے تالیف کئے ہیں اور بہت سامال اس کے عوض میں اُجرت کے طور پر لیا ہے۔پس اگر