تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 337

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۳۷ گوشت اور خون ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ میں ابھی مرا ہیں۔ یسوع اس واقعہ کے بعد پوشیدہ equivalent to touch me not for i am still flesh & blood۔۔ I am not yet dead, Jesus sees his desciples only a few times طور پر کئی دفعہ اپنے حواریوں کو ملا اور جب اسے mysteriously and believing that he had set the final seal to the یقین ہو گیا کہ اس موت نے اُس کے کام کی truth of his work by his death he then retires into impenetrable صداقت پر آخری مہر لگا دی ہے تو وہ پھر کسی نا قابل gloom Das Heiligthum and die حصول تنہائی میں چلا گیا۔ دیکھو کتاب سوپرنیچرل ریلیجن صفحه ۵۲۳۔۔ Wabrhcit p 107 p 231 (Pp۔ 523 of the Supernatural religion) اور یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے مسئلہ کو مسلمان عیسائیوں سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اُس کی موت کا بار بار ذکر ہے ۔ لیکن بعض نادانوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ اس آیت قرآن شریف میں یعنی وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شبه لهم لے میں لفظ شُبہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی کی جگہ کسی اور کو سولی دیا گیا اور وہ خیال نہیں کرتے کہ ہر ایک شخص کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے پس اگر کوئی اور شخص حضرت عیسی کی جگہ صلیب دیا جاتا تو صلیب دینے کے وقت ضرور وہ شور مچا تا کہ میں تو عیسی نہیں ہوں ۔ اور کئی دلائل اور کئی امتیازی اسرار پیش کر کے ضرور اپنے تئیں بچالیتا نہ یہ کہ بار بار ایسے الفاظ منہ پر لاتا جن سے اس کا عیسی ہونا ثابت ہوتا۔ رہا لفظ شُبَّهَ لَهُمْ ۔ سو اس کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ موت کا وقوعہ یہودیوں پر مشتبہ کیا گیا وہ یہی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حالانکہ مسیح قتل ہونے سے بچ گیا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ النساء: ۱۵۸