تحفۂ گولڑویہ — Page 327
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۲۷ ۸۰ ریل کی سواری کا جاری ہونا اور ذوالسنین ستارہ کا نکلنا اور آفتاب کا تاریک ہو جانا یہ سب (۱۳۵) نعوذ باللہ جھوٹے تھے۔ ایسے خیال کا نتیجہ آخر یہ ہوگا کہ اس پیشگوئی کو ہی ایک جھوٹی پیشگوئی قرار دے دیں گے اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دروغ گو سمجھ لیں گے اور اس طرح پر ایک وقت آتا ہے کہ ایک دفعہ لاکھوں آدمی دین اسلام سے مرتد ہو جائیں گے۔ اب صدی پر بھی سترہ برس گزر گئے۔ ایسی ضرورت کے وقت میں بقول ان کے عیسائیت کے مفاسد دور کرنے کے لئے جو وہی عظیم الشان مفاسد تھے کوئی مسجد دخدا کی طرف سے مبعوث نہ ہوا اور یقینی طور پر مانا پڑا کہ اب کم سے کم انی برس اور اسلام تنزل کی حالت میں رہے گا اور جبکہ اسلام میں چند سال میں یہ تغیر پیدا کیا کہ ہزار ہالوگ مرتد ہو گئے تو کیا انشی برس تک اسلام کا کچھ وجود باقی رہے گا اور اسلام کے نابود ہونے کے بعد اگر کوئی مسیح آسمان سے بھی اُترا تو کیا فائدہ دے گا بلکہ وہی مصداق ہوگا کہ ” پس زانکہ من نمانم بچہ کا رخواہی آمد اور آخر ایسی باطل پیشگوئیوں کی نسبت بداعتقادی پھیل کر ایک عام ارتداد اور الحاد کا بازار گرم ہو جائے گا اور نعوذ باللہ اسلام کا خاتمہ ہو گا خدا تعالیٰ ہمارے مخالف علماء کے حال پر رحم فرما دے کہ وہ جو کارروائی کر رہے ہیں وہ دین کے لئے اچھی نہیں بلکہ نہایت خطرناک ہے۔ وہ زمانہ ان کو بھول گیا جب وہ منبروں پر چڑھ چڑھ کر تیرھویں صدی کی مذمت کرتے تھے کہ اس صدی میں اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے اور آیت فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا پڑھ کر اس سے استدلال کیا کرتے تھے کہ اس عُسر کے مقابل پر چودھویں صدی یسر کی آئے گی لیکن جب انتظار کرتے کرتے چودھویں صدی آگئی اور معین صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص بدعوائے مسیح موعود پیدا ہو گیا اور نشان ظاہر ہوئے اور زمین و آسمان نے گواہی دی تب اوّل المنکرین یہی علماء ہو گئے مگر ضروری تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بھی پہلے منکر یہودیوں کے مولوی تھے جنہوں نے اُن کے لئے الم نشرح: ۷۶