تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 328

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۲۸ تحفہ گولڑویہ دو فتوے طیار کئے تھے ایک کفر کا فتویٰ اور دوسرے قتل کا فتویٰ ۔ پس اگر یہ لوگ بھی کفر اور قتل کا فتوی نہ دیتے تو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا جو سورۃ فاتحہ میں سکھائی گئی ہے جو پیشگوئی کے رنگ میں تھی کیونکر پوری ہوتی کیونکہ سورہ فاتحہ میں جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا فقرہ ہے اس سے مراد جیسا کہ فتح الباری اور در منثور وغیرہ میں لکھا ہے یہودی ہیں۔ اور یہودیوں کا بڑا واقعہ جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قریب تر زمانہ میں وقوع میں آیا وہ یہی واقعہ تھا جو انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو کا فرٹھہرایا اور اس کو ملعون اور واجب القتل قرار دیا اور اس کی نسبت سخت درجہ پر غضب اور غصہ میں بھر گئے اس لئے وہ اپنے ہی غضب کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیہم ٹھہرائے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے چھ سو برس بعد میں پیدا ہوئے۔ اب ظاہر ہے کہ آپ کی اُمت کو جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا سورہ فاتحہ میں سکھلائی گئی اور تاکید کی گئی کہ پانچ وقت کی نماز اور تہجد اور اشراق اور دونوں عیدوں میں یہی دعا پڑھا کریں اس میں کیا بھید تھا جس حالت میں ان یہودیوں کا زمانہ اسلام کے زمانہ سے پہلے مدت سے منقطع ہو چکا تھا تو یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی اور کیوں اس دعا میں یہ تعلیم دی گئی کہ مسلمان لوگ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے پنج وقت پناہ مانگتے رہیں جو یہودیوں کا وہ فرقہ نہ بن جائیں جو مغضوب عليهم ہیں پس اس دعا سے صاف طور پر سمجھ آتا پر (۱۳۲) ہے کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہونے والا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کے علماء کا اس کی تکفیر کرے گا اور اُس کے قتل کی نسبت فتویٰ دے گا۔ لہذا سورہ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا کو تعلیم کر کے سب مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ ان یہودیوں کی مثل نہ بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسی بن مریم پر کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اُن پر قتل کا فتوی دیا تھا اور نیز ان کے پرائیویٹ امور میں دخل دے کر اُن کی ماں پر افترا کیا تھا اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں یہ سنت اور عادت مستمرہ ہے کہ جب وہ ایک گروہ کو کسی