تحفۂ گولڑویہ — Page 310
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۱۰ تحفہ گولڑ و به مان لیا جاوے کہ حضرت مسیح زندہ جسم عصری آسمان پر تشریف لے گئے تو پھر آیت فلما توفیتنی کیونکر صحیح ٹھہر سکتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ گئے جب تک کہ وہ زندہ تھے عیسائی نہیں بگڑے۔ اور پھر اس آیت کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ لے کہ زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے۔ کیا وہ شخص جو اٹھارہ سو برس سے آسمان پر بقول مخالفین زندگی بسر کر رہا ہے وہ انسانوں کی قسم میں سے نہیں ہے؟ اگر مسیح انسان ہے تو نعوذ باللہ مسیح کے اس مدت دراز تک آسمان پر ٹھہرنے سے یہ آیت جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اگر ہمارے مخالفوں کے نزدیک انسان نہیں ہے بلکہ خدا ہے تو ایسے عقیدہ سے وہ خود مسلمان نہیں ٹھہر سکتے ۔ پھر یہ آیت قرآن شریف کی کہ آمُوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ " جس کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں کی خدا کے سوا تم عبادت کرتے ہو وہ سب مر چکے ہیں اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں۔ صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اور پھر یہ آیت کہ مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ | قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں کیونکہ یہ آیت وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجماع کر کے اقرار کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں جیسا کہ ہم پہلے اس سے اس کتاب میں مفصل بیان کر چکے ہیں۔ پھر جب ہم احادیث کی طرف آتے ہیں تو ان سے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہی ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حدیث معراج کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں (۱۲۷) حضرت مسیح کو فوت شدہ انبیاء میں دیکھا ہے۔ اگر وہ آسمان پر زندہ ہوتے تو فوت شدہ روحوں میں ہرگز دیکھے نہ جاتے ۔ اگر کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مشاہدہ کے وقت اس عالم میں نہیں تھے جملہ معراج کے لئے رات اس لئے مقرر کی گئی کہ معراج کشف کی قسم تھا۔ اور کشف اور خواب کے لئے رات موزوں ہے۔ اگر یہ بیداری کا معاملہ ہوتا تو دن موزوں ہوتا ۔ منہ الاعراف: ٢٦ النحل : ٢٢ ال عمران: ۱۴۵