تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 309

روحانی خزائن جلد۷ ۳۰۹ تحفہ گولڑویہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بار بار حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر اسی لئے زور دیا ہے کہ تا آئندہ زمانہ میں ایسے لوگوں پر حجت ہو جائے جو نا حق اس دھو کہ میں مبتلا ہونے والے تھے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور مسیح کی حیات پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور جو دلائل پیش کرتی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن پر سخت درجہ کی غباوت (۱۲۶ غالب آگئی ہے مثلاً وہ کہتے ہیں کہ آیت وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ حضرت مسیح کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور اُن کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے مگر افسوس کہ وہ اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ القِيمة " جس کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔ جب یہودی نہ رہے اور سب ایمان لے آئے تو پھر بغض اور دشمنی کے لئے کون سا موقعہ اور محل رہا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ "۔ اس کے بھی یہی معنے ہیں جو اوپر گذر چکے اور وہی اعتراض ہے جو اوپر بیان ہو چکا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ "۔ اس جگہ کفروا سے مراد بھی یہود ہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام محض یہودیوں کے لئے آئے تھے اور اس آیت میں وعدہ ہے کہ حضرت مسیح کو ماننے والے یہود پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ اب بتلاؤ کہ جب ان معنوں کے رو سے جو ہمارے مخالف آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب کے کرتے ہیں تمام یہودی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر یہ آیتیں کیونکر صحیح ٹھہر سکتی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کی قیامت تک باہم دشمنی رہے گی اور نیز یہ کہ قیامت تک یہود ایسے فرقوں کے مغلوب رہیں گے جو حضرت مسیح کو صادق سمجھتے ہوں گے۔ ایسا ہی اگر ا النساء : ١٦٠ المائدة : ۶۵ المائدة : ۱۵ ال عمران: ۵۶