تحفۂ گولڑویہ — Page 308
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۰۸ تحفہ گولڑویہ کا صیغہ ماضی مجہول تھا اور سَيَغْلِبُونَ مضارع معلوم تھا منسوخ التلاوت نہیں ہوئی بلکہ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف سناتے رہے جس سے اس سنت اللہ کے موافق جو قرآن شریف کے نزول میں ہے یہ ثابت ہوا کہ ایک مرتبہ پھر مقدر ہے کہ عیسائی سلطنت روم کے بعض حدود کو پھر اپنے قبضہ میں کرلے گی ۔ اسی بنا پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے یعنی نصاری۔ اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاریٰ مراد ہیں۔ پس اس جگہ چھ بروز ہیں جن کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ اب عقلمند سوچ سکتا ہے کہ جبکہ سلسلہ محمد یہ میں موسیٰ بھی بروزی طور پر نام رکھا گیا ہے اور محمد مہدی بھی بروزی طور پر اور مسلمانوں کا نام یہودی بھی بروزی طور پر اور عیسائی سلطنت کے لئے روم کا نام بھی بروزی طور پر تو پھر ان تمام بروزوں میں مسیح موعود کا حقیقی طور پر عیسی بن مریم ہی ہونا سراسر غیر موزوں ہے اور ☆ جید حیح بخاری میں جو یہ حدیث ہے کہ بغیر عیسی بن مریم کے کوئی مس شیطان سے محفوظ نہیں رہا اس جگہ فتح الباری میں اور نیز علامہ زمخشری نے یہ لکھا ہے کہ اس جگہ تمام نبیوں میں سے صرف عیسی کو ہی معصوم ٹھہرانا قرآن شریف کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ کہہ کر کہ اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن کے تمام نبیوں کو معصوم ٹھہرایا ہے پھر عیسی بن مریم کی کیا خصوصیت ہے اِس لئے اس حدیث کے یہ معنے ہیں کہ تمام وہ لوگ جو بروزی طور پر عیسی بن مریم کے رنگ میں ہیں یعنی رُوح القدس سے حصہ لینے والے اور خدا سے پاک تعلق رکھنے والے وہ سب معصوم ہیں اور سب عیسی بن مریم ہی ہیں اور حضرت عیسی کی معصومیت کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ یہودیوں کا یہ بھی اعتراض تھا کہ حضرت عیسی کی ولادت مس شیطان کے ساتھ ہے یعنی مریم کا حمل نعوذ باللہ حلال طور پر نہیں ہوا تھا جس سے حضرت عیسی پیدا ہوئے سوضرور تھا کہ اس گندے الزام کو دفع کیا جاتا۔ منہ بنی اسرائیل : ۶۶