تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 307

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۰۷ تحفہ گولڑویہ میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے یہاں تک کہ بعض اُن میں سے بدکاری شراب نوشی خونریزی اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل ہو گئے ۔ یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ ہاں بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبد العزیز (۶) چھٹے اُن بادشاہوں کے مثیلوں کا قرآن شریف میں ذکر ہے جنہوں نے یہودیوں کے سلاطین کی بدچلنی کے وقت اُن کے ممالک پر قبضہ کیا جیسا کہ آیت غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ سے ظاہر ہوتا ہے۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ روم سے مراد نصاری ہیں۔ اور وہ آخری زمانہ میں پھر اسلامی ممالک کے کچھ حصے دبا لیں گے۔ اور اسلامی بادشاہوں کے ممالک اُن کی بدچلنیوں کے وقت میں اُسی طرح نصاری کے قبضے میں آجائیں گے جیسا کہ اسرائیلی بادشاہوں کی بدچلنیوں کے وقت رومی سلطنت نے ان کا ملک دبا لیا تھا پس واضح ہو کہ یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہو گئی۔ مثلاً روس نے جو کچھ رومی سلطنت کو خدا کی ازلی مشیت سے نقصان پہنچایا وہ پوشیدہ نہیں۔ اور اس آیت میں جبکہ دوسرے طور پر معنے کئے جائیں غالب ہونے کے وقت میں روم سے مراد قیصر روم کا خاندان نہیں کیونکہ وہ خاندان اسلام کے ہاتھ سے تباہ ہو چکا بلکہ اس جگہ بروزی طور پر روم سے روس اور دوسری عیسائی سلطنتیں مراد ہیں جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں۔ یہ آیت اول اس موقعہ پر نازل ہوئی تھی جبکہ کسری شاہ ایران نے بعض حدود پر لڑائی کر کے قیصر شاہ روم کو مغلوب کر دیا تھا۔ پھر جب اس پیشگوئی کے مطابق بضع سنین میں قیصر روم شاہ ایران پر غالب آ گیا تو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ ، الخ جس کا مطلب یہ تھا کہ رومی سلطنت اب تو غالب آ گئی مگر پھر بضع سنین میں اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ دوسری قراءت میں غَلَبَت کا صیغہ ماضی معلوم تھا اور سَيُغْلَبُونَ کا صیغہ مضارع مجہول تھا مگر پھر بھی پہلی قراءت جس میں غُلِبَت الروم :٤٣